خواجہ آصف کا پی ٹی آئی پر طنز، عمران خان کے معاملے پر این آر او کی خواہش کا الزام

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف اور اس کے بانی عمران خان کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر سخت سیاسی ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی اپنے قائد کے لیے این آر او حاصل کرنے کی خواہش اب نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ قدرت کا انتقام ہے، تکبر کے ہمالیہ پہاڑ سے آج مارگلہ کی پہاڑیاں بھی بلند ہیں۔ انہوں نے ساتھ ہی عمران خان کی صحت کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں تمام بیماریوں سے شفا عطا فرمائے۔

عدالتی ریلیف پر جشن

وزیر دفاع نے کہا کہ تحریک انصاف کے بے شمار ’’بانیوں‘‘ میں سے ایک بانی کو معزز عدلیہ کی جانب سے غیر معمولی ریلیف ملا۔ ان کے مطابق جس انداز میں پوری جماعت نے اس فیصلے پر جشن منایا، وہ اس شدید خواہش کی عکاسی کرتا ہے کہ کسی طرح ان کے نااہل قرار دیے گئے قائد کو جیل سے نکالا جائے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی موجودہ سرگرمیوں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کی جیل سے رہائی کے لیے ہر ممکن راستہ تلاش کیا جارہا ہے اور عدالتی فیصلوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔

ماضی کے بیانات یاد دلادیے

خواجہ آصف نے عمران خان کے ماضی کے سیاسی مؤقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی شخص ہے جو ماضی میں دوسرے سیاست دانوں کو جیلوں میں ڈالنے اور ان کے لیے جیل کی زندگی مزید سخت بنانے کے مطالبات کیا کرتا تھا۔

وزیر دفاع کے مطابق آج صورتحال یکسر مختلف دکھائی دے رہی ہے اور عمران خان کی اپنی جماعت ان کے لیے جیل میں طبی سہولیات، اسپتال منتقلی اور دیگر ریلیف کا مطالبہ کررہی ہے۔

’’مردِ آہن‘‘ سے مریض تک

خواجہ آصف نے کہا کہ ستم ظریفی کا شاید اس سے بڑا یوٹرن ممکن نہیں کہ جس شخص کو ماضی میں ناقابل شکست اور خود ساختہ ’’مردِ آہن‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا، آج اسی کی پوری جماعت اسے جیل سے اسپتال منتقل کرانے کے لیے فریاد کرتی نظر آ رہی ہے۔

ان کے مطابق سیاسی شخصیات کے بارے میں بنائے گئے مضبوط اور سخت گیر بیانیے وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال نے تحریک انصاف کے ماضی اور حال کے مؤقف میں نمایاں فرق پیدا کردیا ہے۔

عمران خان کے علاج پر اعتراض نہیں

وزیر دفاع نے واضح کیا کہ انہیں عمران خان کو فوری، مؤثر اور مکمل طبی سہولت فراہم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں علاج پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہونا چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے ضروری طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں، تاہم عدالتی فیصلے پر خوشیاں منانے سے پہلے تحریک انصاف کو اپنے بیانیے میں موجود واضح تضادات کا جواب دینا چاہیے۔

صحت کا معاملہ سیاسی بحث میں شامل

عمران خان کی صحت اور انہیں نجی اسپتال منتقل کرنے کا معاملہ اس وقت سیاسی اور عدالتی سطح پر بھی اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ ان کے علاج، طبی نگرانی اور اہل خانہ و ذاتی معالج سے ملاقاتوں کے حوالے سے بھی معاملات زیر بحث رہے ہیں۔

تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں اور ان کی صحت کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت نہیں ہونی چاہیے۔

حکومت اور پی ٹی آئی آمنے سامنے

دوسری جانب حکومت عمران خان کی صحت سے متعلق تحریک انصاف کے مطالبات کو سیاسی تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ خواجہ آصف کا تازہ بیان بھی اسی سیاسی کشمکش کا حصہ ہے، جس میں حکومتی رہنما تحریک انصاف کے موجودہ مطالبات کو اس کے ماضی کے سیاسی مؤقف کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں عمران خان کی صحت کا معاملہ سیاسی اختلافات سے بڑھ کر انسانی اور طبی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن زیر حراست کسی بھی شخص کو ضروری علاج اور مناسب طبی سہولیات فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

سیاسی کشمکش مزید تیز ہونے کا امکان

خواجہ آصف کے بیان سے واضح ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان عمران خان کے معاملے پر سیاسی اختلاف بدستور برقرار ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی اپنے قائد کی صحت اور طبی سہولیات کو بنیادی انسانی ضرورت قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب حکومت اسے سیاسی ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

آنے والے دنوں میں عمران خان کی صحت، عدالتی فیصلوں اور اسپتال منتقلی کے معاملے پر سیاسی بیانات اور ردعمل میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔

ہمیں فالو کریں