اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )رینسم ویئر گروپ ورلڈ لیکس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بھارت کے سب سے بڑے جوہری پاور پلانٹ کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق بڑی مقدار میں حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر شائع کر دیا ۔
سائبر سکیورٹی اور حساس تنصیبات کے تحفظ سے متعلق نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق لیک ہونے والے ڈیٹا میں مبینہ طور پر پلانٹ کے بعض حصوں کے نقشے، سپلائرز کی تفصیلات، اجلاسوں اور معائنوں کا ریکارڈ، آلات کے جائزے، تصاویر اور انشورنس سے متعلق دستاویزات شامل ہیں۔ تاہم رپورٹ کے مطابق شائع شدہ دستاویزات بظاہر جوہری ری ایکٹرز کے بنیادی آپریشنل نظام سے متعلق نہیں ہیں۔ہیکرز کا دعویٰ ہے کہ یہ معلومات ریلائنس گروپ کے سسٹمز سے حاصل کی گئیں۔
ریلائنس نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ڈیٹا سینٹر سروس فراہم کرنے والی کمپنی یوٹا کے سرور پر اس کے کچھ ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی حاصل کی گئی، تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا۔ ریلائنس کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق حکومتی اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق کڈنکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ بھارتی ریاست تمل ناڈو میں واقع ہے اور یہ ملک کے سات جوہری پاور پلانٹس میں سب سے بڑا منصوبہ ہے۔
ریلائنس انفراسٹرکچر نے 2018 میں پلانٹ کے یونٹ 3 اور یونٹ 4 کے بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا، جبکہ دونوں یونٹس 2027 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔رائٹرز کے مطابق ریلائنس سے مبینہ طور پر لیک ہونے والی تقریباً 8 لاکھ 58 ہزار فائلوں میں سے قریب 19 ہزار فائلیں زیادہ حساس نوعیت کی معلوم ہوتی ہیں، جن میں وینٹیلیشن اور کولنگ سسٹمز کے نقشے، کنٹرول روم کے خاکے، سپلائرز کی معلومات اور مشترکہ معائنے سے متعلق ریکارڈ شامل ہے۔
نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ معلومات غلط ہاتھوں میں چلی جائیں تو حساس تنصیبات کے معاون نظام، سپلائی چین اور ممکنہ سکیورٹی کمزوریوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جو سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لیک ہونے والی دستاویزات میں ایک انشورنس پالیسی کا ریکارڈ موجود ہے، جس کے مطابق اگر زیر تعمیر یونٹس 3 اور 4 دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تو 112 ملین ڈالر تک کے معاوضے کی گنجائش موجود ہے۔
ورلڈ لیکس ایک رینسم ویئر گروپ ہے جو اس سے قبل نائیکی اور ٹاٹا گروپ سمیت کئی بڑی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکا ہے۔ یہ گروپ مبینہ طور پر تاوان کی عدم ادائیگی کی صورت میں چوری شدہ ڈیٹا ڈارک ویب پر جاری کر دیتا ہے۔سائبر سکیورٹی کمپنی سرفشارک کے مطابق ڈیٹا لیک کے واقعات کے حوالے سے بھارت دنیا کے نمایاں متاثرہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔