رانا ثناء اللہ کو میں نے جیل میں نہیں ڈالا،انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھا،شہریار آفریدی 

 

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ کو میں نے جیل میں نہیں ڈالا، انہیں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر گرفتار کیا۔

اسلام آباد کی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثناء اللہ کو آپ نے جیل میں ڈال دیا تھا، کیا اب یہ سب وہ کر رہے ہیں؟

اس پر شہریار آفریدی نے کہا کہ واضح طور پر رانا ثناء اللہ کو جیل میں نہیں ڈالا، اینٹی نارکوٹکس فورس کے سربراہ میجر جنرل ہیں، اے این ایف نے رانا ثناء اللہ کو انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر گرفتار کیا، اے این ایف کے پاس سب کچھ رانا ثناء اللہ کے خلاف تھا، میں نے کبھی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی.

 

تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ ریاست ماں ہوتی ہے اور ماں اپنے بچوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرتی۔ اللہ میری دھرتی ماں کو سلامت رکھے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ لوگ کس حال میں پارٹی چھوڑ گئے، یہ آزمائشیں آئیں، اللہ ہم سب کو بچائے۔

واضح رہے کہ رانا ثناء اللہ کو پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں یکم جولائی 2019 کو منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ 24 دسمبر 2019 تک جیل میں رہے، لاہور ہائی کورٹ نے 24 دسمبر کو رانا ثنا اللہ کی ضمانت منظور کی تھی

اس حوالے سے اس وقت کے وفاقی وزیر شہریار آفریدی بار بار میڈیا کے سامنے آئے اور دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس تمام شواہد موجود ہیں کہ رانا ثناء اللہ ہیروئن سمگلنگ میں ملوث ہیں تاہم وہ کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔

ہمیں فالو کریں