اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مشکوک مالی لین دین کی رپورٹنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور نگرانی کو مزید سخت کیا جائے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے نشاندہی کی ہے کہ غیر مالیاتی کاروباری اداروں اور پیشہ ور شعبوں کی جانب سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس کی تعداد انتہائی کم ہے، جو ایک تشویش ناک پہلو ہے۔ ادارے کے مطابق ملک میں یہ تاثر بھی موجود ہے کہ غیر قانونی دولت اور ٹیکس چوری سے حاصل ہونے والا پیسہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے یہ بھی کہا ہے کہ تجارتی بنیادوں پر منی لانڈرنگ کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ قانونی اداروں کے غلط استعمال کو روکنے اور اصل مالکان کی معلومات یعنی بینیفیشل اونرشپ کے نظام کو شفاف بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایم ایف نے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت پاکستان کے لیے ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم ساتھ ہی اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پہلے ہی رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور متعلقہ شعبوں کو مشکوک مالی لین دین کی رپورٹنگ کے لیے نامزد کیا تھا، جو فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو رپورٹس ارسال کرتے ہیں، لیکن آئی ایم ایف کے مطابق یہ نظام ابھی تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کو نیشنل رسک اسیسمنٹ اور اینٹی منی لانڈرنگ و انسداد دہشت گردی مالی معاونت کے نظام میں اصلاحات سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔
حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور رئیل اسٹیٹ سمیت متعلقہ شعبوں میں شفافیت بڑھائی جائے گی۔
مزید یہ کہ اصل مالکان کی معلومات کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے مرکزی رجسٹر کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے تجارتی بنیادوں پر منی لانڈرنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی ہے اور اس کے تدارک کے لیے فوری اقدامات پر زور دیا ہے۔