اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)باوثوق ذرائع کے مطابق چوبیس سے چھبیس مئی کے دوران وزیراعظم پاکستان کے دورہ چین میں بڑے پیمانے پر اقتصادی تعاون کے معاہدے ہونے کی توقع ہے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً پانچ ارب ڈالر تک بتائی جا رہی ہے۔ اس دوران سو سے زائد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں میں نوے فیصد کاروبار سے کاروبار اور دس فیصد حکومت سے کاروبار نوعیت کے ہوں گے۔ ان کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا ہے۔
وزیراعظم کے دورے کے دوران زراعت، پولٹری، ڈیری فارمنگ، پھلوں اور سبزیوں کی پراسیسنگ، حیوانی ویکسین، ماہی پروری، کولڈ چین سسٹم، کھاد، بیج، زرعی ادویات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مالیاتی ٹیکنالوجی، ای کامرس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، صنعتی شعبے، موبائل فونز اور لیپ ٹاپ بیٹریز، الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات اور چارجنگ سسٹمز جیسے شعبوں میں تعاون کے معاہدے شامل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے جس کی نگرانی خصوصی معاون ہارون اختر کر رہے ہیں۔ یہ کمیٹی تمام معاہدوں پر عملدرآمد اور پیش رفت کا ہفتہ وار جائزہ لے گی۔
دورے میں وزیر توانائی، وزیر پیٹرولیم، معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزیر برائے قومی غذائی تحفظ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوں گے۔
اسی طرح نجی شعبے کے نمائندے بھی وفد کا حصہ ہوں گے، جہاں کاروباری سطح پر بھی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق چوبیس مئی کو وزیراعظم کاروباری معاہدوں کی تقریب میں شریک ہوں گے، پچیس مئی کو بیجنگ میں اہم ملاقاتیں اور مذاکرات ہوں گے، جبکہ چھبیس مئی کو دورہ مکمل کر کے وطن واپسی ہوگی۔
دورے کی تیاریوں کے باعث آئندہ مالی سال کے بجٹ کے شیڈول میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ امکان ہے کہ وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش کیا جائے گا، جبکہ اقتصادی سروے چار جون کو جاری کیا جائے گا۔
مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دورے کے بعد قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس تین جون کو وزیراعظم کی زیر صدارت متوقع ہے، جس میں معاشی پالیسیوں اور آئندہ مالی منصوبوں کا جائزہ لیا جائے گا۔