بھارت کی اسلام دشمنی ، عدالت نے مدھیہ پردیش کی تاریخی مسجد کو مندر قرار دے دیا

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز) بھارتی ہائیکورٹ نے دھار شہر میں واقع تاریخی کمال مولا مسجد کو ہندو دیوی واگ دیوی کا مندر قرار دیا اور ہندوؤں کو وہاں عبادت کی اجازت دے دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ مقام جسے بھوج شالا کمپلیکس بھی کہا جاتا ہے، دہائیوں سے تنازع کا شکار رہا ہے۔ مسلم برادری یہاں جمعے کی نماز ادا کرتی رہی ہے، جبکہ 2003 کے معاہدے کے تحت ہندوؤں کو منگل کو عبادت کی اجازت تھی۔عدالت نے آثار قدیمہ سروے آف انڈیا کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر فیصلہ کیا، جس میں کہا گیا کہ مسجد سے پہلے اسی مقام پر ہندو مندر موجود تھا۔
عدالت نے مسلم فریق کو متبادل زمین فراہم کرنے کا حکم دیا تاکہ نئی مسجد تعمیر کی جا سکے۔فیصلے کے بعد بھوج شالا کمپلیکس میں ہندو تنظیموں نے مذہبی رسومات انجام دیں اور زعفرانی جھنڈے لہرا دیے، جبکہ علاقے میں سخت سکیورٹی تعینات رہی۔مسلم وکلاء نے فیصلے کو "قانون اور تاریخ کے خلاف” قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا کہ یہ فیصلہ بابری مسجد کے بعد ایک نئی مثال بن گیا ہے اور ملک بھر میں مزید مساجد کے خلاف دعوے سامنے آ سکتے ہیں۔ہندو تنظیموں نے فیصلے کو "ہندو تہذیب کی فتح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کے بعد ہندو قوم پرستی کو مزید تقویت ملی ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں