اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جوہری پروگرام جاری نہ رکھنے سمیت کئی معاملات پر آمادہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور ممکن ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جائے۔
اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب شدت سے معاہدہ چاہتا ہے اور بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں۔ ان کے مطابق ایران کی فضائیہ، بحریہ، میزائل نظام اور ریڈارز کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو نقصان پہنچا ہے اور موجودہ صورتحال میں امریکہ برتری کی پوزیشن میں ہے۔ ان کے بقول گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ایران کے ساتھ مثبت رابطے ہوئے ہیں اور بات چیت میں پیش رفت ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا امکان موجود ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی صورت ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق مذاکرات کا عمل جاری ہے اور کسی حتمی ڈیڈلائن کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ طور پر تنازع کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے پایا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق سنجیدہ مذاکرات کے لیے دباؤ یا دھمکیوں کے بجائے خلوصِ نیت ضروری ہے، اور جیسے ہی ایران اپنی حتمی رائے قائم کرے گا، متعلقہ فریقوں کو آگاہ کر دیا جائے گا۔
یہ صورتحال خطے میں کشیدگی اور سفارتی کوششوں دونوں کو ظاہر کرتی ہے، جہاں ایک طرف بیانات سخت ہیں اور دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کی بات کی جا رہی ہے۔