اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک میں استاد اور شاگرد کے رشتے کا تقدس متاثر ہوا ہے،
جبکہ مختلف ادوار میں حکمرانوں اور بیرونی طاقتوں کی ترجیحات کے تحت تعلیمی نصاب اور تاریخ کو مسخ کیا گیا، جس کے باعث نئی نسل درست تاریخی شعور اور کردار سازی پر مبنی تعلیم سے محروم رہی۔
سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ تعلیمی نصاب اپنی اصل روح سے ہٹ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورِ تعلیم میں پاکستان کی تحریک، برصغیر، مسلم تاریخ اور عالمی تاریخ جس معیار کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی، آج وہ معیار برقرار نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ادوار میں حکمرانوں کی سیاسی ضروریات اور بعض سپر پاورز کو خوش کرنے کے لیے تاریخ کو تبدیل اور مسخ کیا گیا، جس کے نتیجے میں طلبہ کو ایسے حقائق پڑھائے گئے جو حقیقت پر مبنی نہیں تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ موجودہ نصاب طلبہ کی ایسی شخصیت سازی نہیں کر رہا جس کی معاشرے اور ملک کو ضرورت ہے۔ ان کے بقول تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا یا سرکاری ملازمت پانا نہیں، بلکہ ایسے باکردار، ذمہ دار اور بااخلاق شہری تیار کرنا ہے جو معاشرے کے لیے رول ماڈل ثابت ہوں۔
خواجہ آصف نے زور دیا کہ تعلیمی نظام اور نصاب کو قومی ضروریات اور معاشرتی تقاضوں کے مطابق ازسرِنو ترتیب دینا ہوگا تاکہ نئی نسل کو درست تاریخی شعور، بہتر اخلاقی اقدار اور مثبت کردار کے ساتھ مستقبل کی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی ضروریات کے مطابق نصاب نہیں پڑھایا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سی طالبات میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے کے باوجود عملی طور پر طب کے شعبے میں خدمات انجام نہیں دیتیں، جو معاشرے کا ایک بڑا المیہ ہے، اور اس صورتحال کے تدارک میں اساتذہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔
خواجہ آصف نے سیاست دانوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب سیاست دانوں کو خود اپنی منزل کا تعین نہیں تو وہ دوسروں کی رہنمائی کیسے کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کے مطابق ہر شہری کی شناخت پاکستانی ہونی چاہیے، علاقائی نہیں، اور قومی شناخت کے فروغ کے لیے تعلیمی نصاب بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔