اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی کوششوں سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
مختلف بین الاقوامی ذرائع کے مطابق ایک مرحلہ وار منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے جس کا مقصد خطے میں جنگی صورتحال کا خاتمہ، بحری راستوں کی بحالی اور وسیع سیاسی مذاکرات کا آغاز ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ معاہدہ ایک مفاہمتی دستاویز کی شکل میں تیار کیا جا رہا ہے جس میں فریقین کے درمیان اعتماد سازی اور تنازع کے حل کے لیے واضح مراحل طے کیے گئے ہیں۔منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا تاکہ کشیدگی کو فوری طور پر کم کیا جا سکے۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو دوبارہ معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جہاں حالیہ عرصے میں تناؤ بڑھا ہوا تھا۔تیسرے مرحلے میں ایک ماہ پر محیط مذاکراتی عمل شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان اہم سیاسی اور جوہری معاملات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا نے ایک وسیع 14 نکاتی منصوبہ بھی ایران کے سامنے رکھا ہے جس کے تحت ایران سے کہا گیا ہے کہ وہ طویل مدت تک یورینیم کی افزودگی روکنے کی ضمانت دے اور جوہری ہتھیار بنانے سے مکمل طور پر گریز کرے۔ اس منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران اپنے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کسی محفوظ انتظام کے تحت منتقل کرے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو یہ خطے میں برسوں سے جاری کشیدگی میں نمایاں کمی لا سکتا ہے، تاہم ابھی تک دونوں ممالک کی جانب سے حتمی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔