اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر مزید 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے درمیان کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کا جواب دینے کے لیے توانائی کی برآمدات، خصوصاً تیل، کو بطور دباؤ استعمال کرنے کے حق میں نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کینیڈا ایک قابلِ اعتماد توانائی فراہم کرنے والا ملک ہے اور سپلائی روکنے جیسے اقدامات سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔
ٹیرف پر مذاکرات اولین ترجیح
البرٹا کے شہر ریڈ ڈیئر میں ہاؤسنگ سے متعلق ایک تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ اس وقت حکومت کی پوری توجہ 19 اگست سے پہلے امریکا کے ساتھ کسی نہ کسی تجارتی معاہدے تک پہنچنے پر مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو حکومت کے پاس مختلف آپشنز موجود ہیں، جن میں معیشت کو سہارا دینے اور دیگر معاملات سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہیں، تاہم اس مرحلے پر وہ ان ممکنہ اقدامات کی تفصیلات بیان نہیں کرنا چاہتے۔
تیل روکنے کا کوئی فائدہ نہیں
صحافیوں نے جب دوبارہ سوال کیا کہ کیا البرٹا کے تیل کو امریکا کے خلاف بطور دباؤ استعمال کیا جا سکتا ہے تو وزیراعظم نے نسبتاً واضح مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسے ملک کے لیے جو اہم اشیا اور خدمات فراہم کرتا ہو، سپلائی روکنے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق کینیڈا ہمیشہ ایک قابلِ اعتماد شراکت دار رہا ہے اور وہ اس اعتماد کو نقصان پہنچانے میں کوئی فائدہ نہیں دیکھتے۔
مارک کارنی نے کہا، "کینیڈین قابلِ اعتماد ہیں، ہم پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، اسی لیے میں توانائی کی فراہمی روکنے میں کوئی فائدہ نہیں دیکھتا۔”
پہلے مؤقف سے مختلف اشارہ
کارنی کے حالیہ بیان کو ان کے گزشتہ ہفتے کے مؤقف سے مختلف قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل صوبائی وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو "تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔”
اس بیان کے بعد یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ کینیڈا ضرورت پڑنے پر توانائی کی برآمدات کو بھی مذاکرات میں استعمال کر سکتا ہے، تاہم اب وزیراعظم نے اس امکان کو تقریباً مسترد کر دیا ہے۔
ڈوگ فورڈ کی سخت تجویز
اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ مسلسل اس مؤقف کے حامی رہے ہیں کہ اگر امریکا نے مزید اقتصادی دباؤ بڑھایا تو کینیڈا کو اپنی توانائی کی طاقت استعمال کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں :امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ، کارنی اور ٹرمپ کا مذاکرات تیز کرنے پر اتفاق
ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا دنیا کی بڑی توانائی پیدا کرنے والی طاقت ہے اور اگر ضرورت پڑی تو امریکا پر دباؤ ڈالنے کے لیے پوٹاش، تیل اور دیگر قدرتی وسائل کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
فورڈ کے مطابق امریکا کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ کینیڈین توانائی پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے اور صرف کینیڈا کو نقصان برداشت نہیں کرنا چاہیے۔
البرٹا کا واضح انکار
دوسری جانب البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے گزشتہ ہفتے ہی واضح کر دیا تھا کہ صوبہ تیل اور گیس کی سپلائی روکنے کے حق میں نہیں۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ توانائی کی برآمدات روکنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور ایسا اقدام نہ صرف البرٹا بلکہ پورے کینیڈا کے مفادات کے خلاف ہو سکتا ہے۔
امریکا کے نئے ٹیرف کی وجہ
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مجوزہ 50 فیصد ٹیرف کینیڈا کی بعض تجارتی پالیسیوں کے جواب میں لگائے جا رہے ہیں۔
امریکی حکومت کے مطابق صوبوں میں امریکی شراب کی فروخت پر پابندیاں، کینیڈا کی محفوظ ڈیری صنعت اور دونوں ممالک کے درمیان مربوط آٹو انڈسٹری ایسے عوامل ہیں جنہیں واشنگٹن غیر منصفانہ تجارتی رویہ قرار دیتا ہے۔
اگر یہ ٹیرف نافذ ہوئے تو برٹش کولمبیا، کیوبیک، مینیٹوبا اور نووا اسکاٹیا جیسے صوبے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان صوبوں نے امریکی شراب کی فروخت پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
مذاکرات کا سلسلہ جاری
کینیڈا کے وزیر برائے کینیڈا۔امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک اس وقت واشنگٹن میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے ملاقات کی۔
لی بلانک کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ رابطے جاری رکھے جائیں گے تاکہ کسی قابلِ قبول تجارتی حل تک پہنچا جا سکے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں جاری ہیں جب کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدے (CUSMA) پر بھی اہم گفتگو ہو رہی ہے۔
19 اگست فیصلہ کن تاریخ
وزیراعظم مارک کارنی نے بتایا کہ وہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی بات کر چکے ہیں اور دونوں رہنماؤں نے تجارتی مذاکرات میں مزید تیزی لانے پر اتفاق کیا ہے۔
اب تمام نظریں 19 اگست پر مرکوز ہیں، کیونکہ اگر اس تاریخ تک کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکا کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف نافذ کیے جا سکتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات ایک نئے اور زیادہ کشیدہ مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں۔