اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا کی صوبائی حکومت نے پیر کے روز صحت کے نظام کی ازسرِ نو تشکیل کے منصوبے کا آخری حصہ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ شہریوں کو احتیاطی طبی معائنے کے لیے خود درخواست دینے کی اجازت دینے پر غور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد طبی سہولیات تک رسائی بڑھانا اور نظام پر دباؤ کم کرنا ہے۔
پرائمری اور احتیاطی صحت کی وزیر ایڈریانا لاگرانج نے بتایا کہ مجوزہ قانون کی مکمل تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں اور اس حوالے سے پیش کیا گیا بل محض ابتدائی مرحلہ ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ صوبے کے شہریوں کو تشخیصی معائنوں کے لیے طویل انتظار کا سامنا ہے، جس کے باعث یہ اقدام ناگزیر ہو چکا ہے۔
وزیر کے مطابق بیماریوں کی بروقت تشخیص سے نہ صرف جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ علاج بھی زیادہ مؤثر اور کم پیچیدہ ہو جاتا ہے، جس سے صحت کے مجموعی نظام پر بوجھ کم پڑتا ہے۔ تاہم حکومت یہ واضح نہیں کر سکی کہ کون کون سے ٹیسٹ خود رجوع کے تحت دستیاب ہوں گے، البتہ سابقہ منصوبوں کے مطابق شہریوں کو نجی سطح پر مختلف تشخیصی سہولیات حاصل کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جن میں جدید اسکین اور خون کے ٹیسٹ شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق صحت کے ماہرین کو نجی طور پر یہ خدمات فراہم کرنے کی اجازت ہوگی جبکہ بیمہ کمپنیاں بھی ان سہولیات کو اپنے منصوبوں میں شامل کر سکیں گی۔ اس کے باوجود سرکاری نظام برقرار رہے گا اور ڈاکٹر کی ہدایت پر کیے جانے والے ٹیسٹ بدستور ترجیحی بنیادوں پر اور سرکاری خرچ پر ہوں گے۔
وزیر نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سرکاری نظام کو تبدیل کرنا نہیں بلکہ اس کی استعداد بڑھانا اور شہریوں کو اپنی صحت کے حوالے سے زیادہ اختیار دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے انتظار کے اوقات کم کرنے میں مدد ملے گی۔
قبل ازیں یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ اگر کوئی شہری ذاتی خرچ پر احتیاطی معائنہ کرواتا ہے اور اس میں کسی سنگین بیماری کی تشخیص ہو جاتی ہے تو حکومت اخراجات واپس کر سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی قانون سازی نہیں ہوئی۔حکومت کو توقع ہے کہ یہ توسیعی اقدامات رواں برس خزاں تک نافذ العمل ہو جائیں گے۔
دریں اثنا، بل نمبر انتیس کے تحت نشہ آور اشیاء کے عادی افراد کے علاج میں بھی آسانی پیدا کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے مطابق معالجین اور تربیت یافتہ طبی عملہ ہنگامی صورتحال میں مخصوص ادویات کی محدود مقدار اپنے پاس رکھ سکیں گے تاکہ مریض کا فوری علاج شروع کیا جا سکے۔ یہ ادویات مستند دواخانوں کے ذریعے فراہم کی جائیں گی اور ان کے محفوظ استعمال کے لیے سخت حفاظتی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون سازی صحت کے نظام کی تنظیم نو کے عمل کو مکمل کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کے ذریعے انتظامی امور کو بہتر بنایا جائے گا اور نظام کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔ تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ یہ اصلاحات مطلوبہ نتائج نہیں دے سکیں اور اب بھی ہنگامی شعبوں میں رش اور دیگر مسائل برقرار ہیں۔