اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمین حج نے مناسک حج کا آغاز کرتے ہوئے خیموں کے شہر منیٰ کی جانب روانگی شروع کر دی ہے، جہاں روحانی ماحول میں عبادات اور لبیک کی صدائیں ہر طرف گونج رہی ہیں۔
حجاج کرام کی منیٰ آمد کا سلسلہ پورے دن جاری رہے گا جبکہ پیر کی شب تمام عازمین منیٰ میں قیام کریں گے۔ اس موقع پر منیٰ میں عبادت، دعا اور ذکر و اذکار کا خصوصی اہتمام کیا جا رہا ہے اور پورا خطہ روحانی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے۔
اس کے بعد منگل نو ذوالحجہ کو نماز فجر کی ادائیگی کے بعد عازمین حج منیٰ سے میدان عرفات کی جانب روانہ ہوں گے، جہاں حج کا سب سے اہم رکن وقوف عرفہ ادا کیا جائے گا۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جس میں لاکھوں حجاج ایک ہی وقت میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں اور مناجات میں مشغول ہوتے ہیں۔
میدان عرفات میں خطبہ حج سننے کے بعد حجاج ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے ادا کریں گے، جس کے بعد مغرب کے بعد وہ مزدلفہ کی طرف روانہ ہوں گے جہاں رات کھلے آسمان تلے عبادت اور آرام میں گزاری جائے گی۔
دوسری جانب سعودی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ حج کے دنوں میں مکہ مکرمہ اور اطراف میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کے دوران درجہ حرارت تقریباً سینتالیس درجے سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کی مقدار بھی تقریباً چالیس فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ کھلے علاقوں میں گرد آلود ہوائیں چلنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک سے آنے والے حجاج کی تعداد پندرہ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں بڑی تعداد فضائی راستوں سے مقدس سرزمین پہنچی ہے۔ ان میں تقریباً تیس فیصد عازمین نے خصوصی سہولت پروگرام کے تحت سفر کیا، جس کے ذریعے ان کے سفر اور امیگریشن کے مراحل کو آسان بنایا گیا۔
مقدس مقامات پر عازمین کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جن میں سایہ دار جگہوں کا اضافہ، ٹھنڈی ہوا کے پنکھوں کا انتظام اور طبی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا گیا ہے تاکہ شدید گرمی کے باوجود حجاج کو زیادہ سے زیادہ آرام اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
حکام کے مطابق حج کے تمام مراحل کو منظم انداز میں مکمل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مربوط انتظامی نظام استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ لاکھوں افراد کے اجتماع کو محفوظ اور آسان بنایا جا سکے۔