اردوورلڈکیینڈا(ویب نیوز)عالمی منڈی میں آج خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کی بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی امیدیں بتائی جا رہی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیائی تجارتی منڈیوں کے آغاز پر ہی تیل کی قیمتوں پر واضح دباؤ دیکھا گیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5.1 فیصد کمی کے بعد 98.22 ڈالر فی بیرل تک آگئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) بھی 5.2 فیصد کمی کے ساتھ 91.57 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی۔
خام تیل کی قیمتوں میں یہ کمی اس وقت سامنے آئی جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور امریکا و ایران کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کی خبروں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں عالمی سطح پر سپلائی سے متعلق خدشات بھی کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق جب جغرافیائی سیاسی کشیدگی کم ہونے کے آثار پیدا ہوتے ہیں تو توانائی کی منڈی میں رسد کے خدشات کم ہو جاتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر قیمتوں میں کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
تاہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے فوری امکانات زیادہ مضبوط نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ان کی ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں جلد بازی سے گریز کیا جائے اور صرف ایسا معاہدہ کیا جائے جو طویل المدتی اور مؤثر ہو۔
توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات آگے بڑھتے ہیں تو عالمی منڈی میں مزید استحکام آ سکتا ہے، تاہم کسی بھی تعطل کی صورت میں قیمتوں میں دوبارہ اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔