70 ہزار سے زائد کینیڈین امریکی سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبے کے حامی، پٹیشن پارلیمنٹ میں پیش ہوگی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا میں امریکی سفیر پیٹ ہوئیکسترا کو ملک سے نکالنے کے مطالبے پر مبنی آن لائن پٹیشن نے غیر معمولی رفتار سے عوامی حمایت حاصل کرلی ہے۔ بدھ کی شام تک 70 ہزار سے زائد کینیڈین شہری اس پٹیشن پر دستخط کرچکے تھے، جو صرف 24 گھنٹوں کے دوران دستخطوں کی تعداد میں تقریباً دوگنا اضافہ ہے۔

یہ پٹیشن رواں سال موسم خزاں میں کینیڈا کے ایوانِ نمائندگان میں پیش کی جائے گی۔ پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکی سفیر پیٹ ہوئیکسترا کو ’’پرسونا نان گراٹا‘‘ قرار دیا جائے اور کینیڈین حکومت امریکا سے ان کی بطور سفیر واپسی کا مطالبہ کرے۔

غیر متوقع حمایت

پٹیشن شروع کرنے والی کیلگری سے تعلق رکھنے والی لی واکر نے کہا ہے کہ انہیں اس مہم کو ملنے والی حمایت کی توقع نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ دستخطوں کی تعداد میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ معاملہ کسی محدود طبقے تک نہیں بلکہ بڑی تعداد میں کینیڈین شہریوں کے لیے باعث تشویش بن چکا ہے۔

واکر کے مطابق بہت سے کینیڈین شہری اس بات سے ناخوش ہیں کہ امریکی سفیر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف اور بیانات کو کینیڈا کی خودمختاری اور ملک کے بارے میں بار بار دہراتے ہیں۔

سفیر پر الزامات

پٹیشن میں پیٹ ہوئیکسترا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان کے بعض بیانات کینیڈا اور امریکا کے درمیان سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔

پٹیشن میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ امریکی سفیر نے کینیڈا کے سیاسی معاملات میں بار بار ایسی مداخلت کی جو سفارتی پروٹوکول سے مطابقت نہیں رکھتی۔

لی واکر کا کہنا ہے کہ کسی سفیر کی جانب سے دیے جانے والے الفاظ اور بیانات عام سیاسی تبصروں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور ان کے اثرات بھی وسیع ہوسکتے ہیں۔

الحاق کے بیان پر ردعمل

پیٹ ہوئیکسترا اس سے قبل کینیڈا کے امریکا میں انضمام یا الحاق سے متعلق ایک بیان کے باعث بھی شدید تنقید کا سامنا کرچکے ہیں۔

جون میں انہوں نے اس وقت توجہ حاصل کی جب انہوں نے کہا کہ کینیڈا کا امریکا کا حصہ بننا وزیراعظم مارک کارنی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بات چیت کے لیے ایک اچھا موضوع ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈا امیگریشن میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری، ایکسپریس انٹری کے نظام میں اصلاحات پر کام شروع

لی واکر نے اسی نوعیت کے بیانات کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک امریکی سفیر کی جانب سے ایسے خیالات کو معمول کی بات کے طور پر پیش کرنا کینیڈا کی خودمختاری کے حوالے سے سنجیدہ نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

تجارتی جنگ پر اختلاف

امریکی سفیر نے کینیڈین سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کی عائد کردہ ٹیرف پالیسی کو ’’تجارتی جنگ‘‘ قرار دینے پر بھی تنقید کی ہے۔ہوئیکسترا نے کہا تھا کہ کینیڈین سیاسی رہنماؤں کے لیے امریکی ٹیرف اقدامات کو تجارتی جنگ قرار دینا خطرناک ہے۔

انہوں نے ان کینیڈین سیاست دانوں پر بھی تنقید کی جنہوں نے امریکی محصولات کے ردعمل میں شہریوں کو امریکا کا سفر کم کرنے یا امریکی مصنوعات سے گریز کرنے کی ترغیب دی۔ امریکا سے آنے والی شراب کو دکانوں سے ہٹانے کے اقدامات بھی ان کے اعتراضات میں شامل رہے ہیں۔

پارلیمانی جائزے کا مطالبہ

پٹیشن میں صرف امریکی سفیر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ نہیں کیا گیا بلکہ کینیڈا کے اندر امریکی سفارتی مداخلت کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے اوٹاوا میں امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے پٹیشن پر تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم تصدیق کی کہ سفارتخانہ اس پٹیشن سے آگاہ ہے۔

پٹیشن کی بڑھتی مقبولیت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔

مذاکرات بھی جاری

کینیڈا اور امریکا کے حکام حالیہ ہفتوں کے دوران ممکنہ تجارتی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مسلسل مذاکرات کررہے ہیں۔کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر سے ملاقاتوں کے لیے واشنگٹن کے متعدد دورے کرچکے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا مقصد صدر ٹرمپ کے سامنے کسی ممکنہ تجارتی معاہدے کا راستہ پیش کرنا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے 19 اگست سے سیکڑوں کینیڈین اشیا پر 50 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے، جبکہ بعض شعبوں پر پہلے ہی مختلف ٹیرف نافذ ہیں۔

’’ہنگامہ پہلے سے ہے‘‘

لی واکر نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان موجود کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پٹیشن سے پیدا ہونے والا تنازع کوئی نئی کشیدگی نہیں بلکہ پہلے سے موجود اختلافات کا اظہار ہے۔

ان کے بقول، دونوں ممالک کے درمیان ہنگامہ پہلے ہی موجود ہے اور ان کی کوشش صرف یہ واضح کرنا ہے کہ کینیڈا اور اس کی خودمختاری کا احترام کسی صورت مذاکرات یا سودے بازی کا موضوع نہیں ہونا چاہیے۔

خزاں میں پارلیمنٹ پہنچے گی

پٹیشن کو موسم خزاں میں پارلیمنٹ میں گرین پارٹی کی رہنما الزبتھ مے پیش کریں گی۔ تاہم پارلیمنٹ میں کسی پٹیشن کو پیش کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ رکن پارلیمنٹ لازماً اس کے مطالبات کی حمایت کرتا ہے۔

لی واکر کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ حکومت پیٹ ہوئیکسترا کو واقعی ’’پرسونا نان گراٹا‘‘ قرار دینے کے لیے عملی قدم اٹھائے گی، تاہم وہ چاہتی ہیں کہ پٹیشن کے ذریعے کینیڈین حکومت اور امریکی سفارتکاروں کو ایک واضح پیغام دیا جائے۔

ان کے مطابق، ایک موجودہ سفیر کی جانب سے اس نوعیت کا طرزِ عمل ایسا معاملہ نہیں جسے کینیڈا خاموشی سے نظرانداز کردے۔

ہمیں فالو کریں