اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پنجاب حکومت نے غنڈہ گردی، بھتہ خوری اور دیگر سماج دشمن سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے نیا قانون متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت سخت سزائیں، بھاری جرمانے اور جدید نگرانی کے اختیارات شامل کیے گئے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق "دی پنجاب کنٹرول آف ہیبیچوئل آفنڈرز اینڈ اینٹی سوشل بیہیوئیر بل 2026” کو پنجاب کے پرانے غنڈہ ایکٹ 1959 کی جگہ لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ بل قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سے منظور ہو چکا ہے اور اب اسے پنجاب اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
مجوزہ قانون کے تحت پہلی مرتبہ جرم ثابت ہونے پر ملزم کو تین سے پانچ سال قید کی سزا دی جا سکے گی، جبکہ عادی جرائم پیشہ افراد کے لیے سات سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔
بل میں یہ اختیار بھی شامل کیا گیا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس بلاک کیے جا سکیں گے، تاکہ ان کی مالی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر اسلحے کی نمائش، ہوائی فائرنگ کی تشہیر یا ایسے مواد کی نمائش کو بھی قانون کے دائرہ کار میں شامل کیا گیا ہے۔
مجوزہ قانون کے مطابق پولیس کو مشتبہ یا نامزد ملزمان کی ڈیجیٹل نگرانی کرنے اور ان کا بائیو میٹرک ڈیٹا جمع کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہوں گے، تاکہ جرائم کی روک تھام اور تحقیقات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی سے منظوری ملنے کے بعد یہ قانون فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، جس کا مقصد غنڈہ گردی، بھتہ خوری اور دیگر سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔