اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)شہر مونٹریال میں پیر کے روز یومِ محبانِ وطن کی مناسبت سے بڑی ریلی نکالی گئی جس میں ۱۸۳۷ اور ۱۸۳۸ کی تحریکِ محبانِ وطن کو یاد کیا گیا۔
اس تحریک کو جمہوری حقوق، عوامی نمائندگی اور کیوبیک کی قومی پہچان کے مطالبات کے لیے ایک اہم جدوجہد کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
شرکاء نے پہلے سر ولفرڈ لوریئر پارک میں جمع ہو کر مارچ شروع کیا اور بعد ازاں روزمونٹ کے علاقے میں واقع مولسن پارک تک پیدل مارچ کیا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے جنہوں نے تحریک کے رہنماؤں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ایک مقرر ایرک فیگیرا رودریگس سیمار نے کہا کہ محبانِ وطن نے ایسے نظریات کے لیے جدوجہد کی جو آج بھی اہم ہیں، جیسے عوامی حکمرانی، برابری اور آزادی۔ ان کے مطابق یہی اصول اس نظام کی بنیاد ہیں جس کے لیے وہ لوگ لڑے تھے۔
ایک شہری فیلکس بروسو نے کہا کہ ان کے نزدیک محبانِ وطن نے آج کی نسل کے لیے بہتر زندگی کی بنیاد رکھی، اس لیے ان کی یاد منانا ضروری ہے۔
ایک اور شریک مارک آندرے پیئے نے کہا کہ محبانِ وطن کی جدوجہد مزاحمت کی علامت ہے اور یہ اس بات کی نمائندگی کرتی ہے کہ معاشرہ کس سمت جانا چاہتا ہے۔
تقریب میں مختلف سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں کیبک جماعتی اتحاد کے رکن جین فرانسوا روبیرژ، کیبک پارٹی کی کیتھرین ژونٹیلکور اور کیبک سولیدیر کی روبا غزال شامل تھیں۔ یہ پروگرام سوسائٹی سینٹ ژاں بپتست دے مونٹریال کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔
سوسائٹی کی صدر ماری آن الیپاں نے کہا کہ محبانِ وطن مختلف پس منظر رکھنے والے افراد تھے جو ایک مشترکہ مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے تھے، اور انہوں نے اس وقت کی حکومت کے خلاف جمہوری حقوق کے لیے آواز اٹھائی۔
ایرک فیگیرا رودریگس سیمار نے مزید کہا کہ آج جو حقِ رائے دہی لوگوں کو حاصل ہے، وہ اسی جدوجہد کا نتیجہ ہے جس میں کچھ افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔
منتظمین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس تحریک میں خواتین کا کردار اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ماری آن الیپاں کے مطابق خواتین نے گھروں میں اجتماعات منعقد کیے، محبانِ وطن کو چھپایا، ان کی مدد کی اور بعض کو فرار ہونے میں بھی سہولت فراہم کی، جس سے ان کی جدوجہد میں اہم کردار سامنے آتا ہے۔