اردو ورلڈ کینیڈا(ویب نیوز ) بھارت میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے پریشان ایک شہری نے حکام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے احتجاج کا ایسا منفرد انداز اپنایا کہ سرکاری دفتر میں موجود افراد بھی حیران رہ گئے۔
شہری کتے کا ماسک پہن کر اور اسی انداز میں حلیہ اختیار کرکے سرکاری عوامی سماعت میں پہنچ گیا، جہاں اس نے شہر میں بڑھتی ہوئی آوارہ کتوں کی تعداد اور نس بندی مہم کے مبینہ غیر مؤثر ہونے کے خلاف احتجاج کیا۔
یہ واقعہ بھارتی شہر کھنڈوا میں پیش آیا، جہاں شہریوں کی جانب سے آوارہ کتوں کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔
کتے کا روپ دھار کر سرکاری دفتر پہنچ گیا
آوارہ کتوں کے خلاف احتجاج کرنے والے شہری نے حکام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے عام احتجاجی طریقہ اختیار کرنے کے بجائے خود کتے کا روپ دھار لیا۔ وہ کتے کا ماسک پہن کر سرکاری عوامی سماعت میں پہنچا اور شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
یہ بھی پڑھیں:
پانچ لاکھ روپے چھپانے کا فیصلہ، جو چند لمحوں میں برسوں کی جمع پونجی پر بھاری پڑ گیا
شہری کے منفرد حلیے کو دیکھ کر سرکاری دفتر کے سیکیورٹی اہلکار بھی حیران رہ گئے۔ انہوں نے ابتدا میں اسے دفتر کے اندر داخل ہونے سے روک دیا، تاہم بعد ازاں اپوزیشن رہنماؤں کی مداخلت کے بعد اسے عوامی سماعت میں شرکت کی اجازت دے دی گئی۔
آوارہ کتوں کی تعداد میں کمی نہ آنے کا دعویٰ
احتجاج میں شریک میونسپل کارپوریشن کے اپوزیشن لیڈر دیپک راٹھور نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ چار برس کے دوران شہر میں آوارہ کتوں کی نس بندی کے لیے تقریباً 40 لاکھ بھارتی روپے خرچ کیے جاچکے ہیں، تاہم اس بھاری رقم کے باوجود شہر میں آوارہ کتوں کا مسئلہ بدستور موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سرکاری سطح پر مسلسل نس بندی مہم چلائی گئی اور اس پر لاکھوں روپے خرچ کیے گئے تو اس کے نتائج بھی نظر آنے چاہییں تھے۔ ان کے مطابق زمینی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے اور شہری اب بھی آوارہ کتوں کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔
چار برس میں ہزاروں افراد کتوں کے کاٹنے کا شکار
دیپک راٹھور کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران کھنڈوا میں کتوں کے کاٹنے کے 13 ہزار 225 واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث شہریوں میں خوف پایا جاتا ہے۔
اپوزیشن رہنما کے مطابق آوارہ کتوں کا مسئلہ صرف عام شہریوں تک محدود نہیں بلکہ بچے، خواتین اور بزرگ بھی اس صورتحال سے خاص طور پر متاثر ہورہے ہیں۔ شہریوں کو روزمرہ معمولات کے دوران آوارہ کتوں کے حملوں کا خدشہ رہتا ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں خوف کی فضا پیدا ہوگئی ہے۔
نس بندی مہم کے اخراجات پر سوالات
مظاہرین نے حکام سے آوارہ کتوں کی نس بندی مہم کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہم پر ہونے والے اخراجات، جاری کیے گئے ٹینڈرز اور اس کام کے لیے ذمہ دار متعلقہ ایجنسی کے کردار کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ اگر گزشتہ کئی برسوں کے دوران نس بندی کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیے گئے تو پھر شہر میں آوارہ کتوں کی تعداد اور کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں نمایاں کمی کیوں نہیں آئی؟
مزید پڑھیں :
سعودی خاندان کی شادی کے لیے 500 کلو وزنی دیوہیکل کیک تیار
ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائے تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ نس بندی مہم پر خرچ ہونے والی رقم کس طرح استعمال کی گئی اور آیا مطلوبہ اہداف حاصل کیے گئے یا نہیں۔
تحقیقات کی یقین دہانی
عوامی شکایت کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے معاملے کی تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ شکایت میں لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر تحقیقات کے دوران کسی قسم کی بے ضابطگی سامنے آئی تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
حکام کی جانب سے تحقیقات کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے امید ظاہر کی کہ آوارہ کتوں کے مسئلے کو محض وقتی طور پر نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
منفرد احتجاج نے توجہ حاصل کرلی
شہری کی جانب سے خود کتے کا روپ دھار کر احتجاج کرنے کے انداز نے مقامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی۔ احتجاج کا مقصد بظاہر حکام کو یہ پیغام دینا تھا کہ آوارہ کتوں کا مسئلہ شہریوں کے لیے کس حد تک سنگین صورت اختیار کرچکا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی تعداد پر قابو پانے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی، شفاف طریقہ کار اور مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ ان کے مطابق صرف رقم مختص کرنا کافی نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں شہریوں کو عملی ریلیف بھی ملنا چاہیے۔
اب انتظامیہ کی جانب سے تحقیقات کے بعد یہ واضح ہوگا کہ نس بندی مہم میں واقعی کوئی بے ضابطگی ہوئی یا نہیں اور شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد پر قابو پانے کے لیے آئندہ کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔
