اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ کیوبیک کے شہر مونٹریال کو اب خاندان کی پرورش کے لیے سب سے مہنگا شہر قرار دے دیا گیا ہے۔ یہ انکشاف سماجی و معاشی تحقیقاتی ادارے کی تازہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک باعزت زندگی گزارنے کے لیے شہریوں کو کتنی آمدنی درکار ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایسی آمدنی جس سے مناسب رہائش، متوازن خوراک، آمد و رفت، تفریحی سرگرمیاں، تعطیلات، اور غیر متوقع اخراجات و تعلیم کے لیے بچت ممکن ہو، اسے باوقار معیارِ زندگی کی آمدنی قرار دیا جاتا ہے۔ مونٹریال میں چار افراد پر مشتمل خاندان کے لیے یہ آمدنی ٹیکس کے بعد اٹھاسی ہزار آٹھ سو ڈالر سے زائد ہوچکی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں چار اعشاریہ دو فیصد زیادہ ہے۔
یہ اضافہ اس قدر نمایاں ہے کہ مونٹریال اب اُن علاقوں سے بھی مہنگا ہوگیا ہے جہاں گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے دو گاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق رہائش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اس کی بنیادی وجہ ہیں، جنہوں نے دیگر اخراجات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایک فرد کے لیے بھی باوقار زندگی گزارنے کی آمدنی اکتالیس ہزار پانچ سو ڈالر سے تجاوز کرچکی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تین اعشاریہ سات فیصد زیادہ ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رہائش، خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ زندگی کو مشکل بناتا جا رہا ہے۔
ادھر صوبے میں کم از کم اجرت میں اضافے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جو یکم مئی سے بڑھ کر سولہ ڈالر ساٹھ سینٹ فی گھنٹہ ہو جائے گی۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ آمدنی اب بھی باوقار معیارِ زندگی کے لیے درکار آمدنی کا صرف دو تہائی حصہ ہی پورا کر پائے گی۔
ماہرین نے تجویز دی ہے کہ بہتر تنخواہوں کے ساتھ ساتھ رہائشی اخراجات میں کمی، عوامی ٹرانسپورٹ کی بہتری اور خوراک کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق عوامی سطح پر خوراک کی فراہمی جیسے منصوبے بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں، جن سے نہ صرف کم آمدنی والے افراد بلکہ متوسط طبقہ بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بڑھتی مہنگائی اور محدود آمدنی کے باعث شہریوں کے لیے بہتر معیارِ زندگی کا حصول دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔