اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پانچ ماہ قبل جب محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری سونپی گئی تو سیاسی حلقوں میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ تاہم حالیہ پارلیمانی سرگرمیوں نے اس تاثر کو کمزور کر دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق شریف خاندان کے ساتھ محمود خان اچکزئی کے دیرینہ تعلقات کی وجہ سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ وہ سیاسی کشیدگی کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے، لیکن قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس اور دیگر سیاسی واقعات میں مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی کا عنصر نمایاں دکھائی دیا۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے موجودہ حکومت کو غیر قانونی قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اپوزیشن کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کے حق سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کے آئینی اور قانونی جواز کا دفاع کیا۔ بحث کے دوران صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب سپیکر قومی اسمبلی نے مداخلت کرتے ہوئے اچکزئی کو قومی اداروں پر تنقید سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔
اپوزیشن جماعتوں نے سپیکر کے ریمارکس پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں ایوان میں اختلافی آوازوں کو محدود کرنے کی کوشش قرار دیا۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کی جانب سے بھی محمود خان اچکزئی کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ مذاکراتی عمل کے ذریعے اب تک وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جن کی توقع کی جا رہی تھی، خصوصاً بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ذاتی معالجین تک رسائی جیسے معاملات پر پیش رفت نہ ہونے کے باعث مایوسی بڑھ رہی ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو دو مرتبہ مذاکرات کی دعوت دی جا چکی ہے، اس لیے اب انہیں ایسا فیصلہ کرنا چاہیے جس سے ان کے تقرر کا مقصد پورا ہو سکے۔
ادھر پارٹی کے بعض دیگر رہنماؤں نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر مذاکراتی عمل سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہوئے تو اپوزیشن اتحاد میں ذمہ داریوں اور اختیارات کے حوالے سے نظرثانی کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے محمود خان اچکزئی کو ایک مدبر اور جمہوری سوچ رکھنے والا سیاستدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پیچیدہ سیاسی معاملات کو سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اصل چیلنج محمود خان اچکزئی کی شخصیت نہیں بلکہ وہ سیاسی ماحول ہے جس میں ان سے نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے رہنماؤں کو درپیش قانونی معاملات کا حل بالآخر عدالتی عمل سے ہی نکلے گا، جبکہ سیاسی دباؤ کی حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔