اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں ایک غیر پابند قرارداد اکثریتی ووٹوں سے مسترد کر دی گئی ہے جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مقامی اقوام کے زمینی دعووں کے مقابلے میں نجی جائیداد کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
یہ سیاسی تنازعہ ۲۰۲۵ کے ایک برٹش کولمبیا سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ کویچن قبائل کو رچمنڈ کے تقریباً تین سو ہیکٹر رقبے پر مقامی ملکیتی حقوق حاصل ہیں۔
اس فیصلے کے بعد یہ سوال اٹھا کہ مقامی ملکیتی حقوق اور نجی ملکیتی حقوق ایک ساتھ کیسے برقرار رہ سکتے ہیں۔ تاہم برٹش کولمبیا کی حکومت اور کویچن قبائل دونوں نے واضح کیا ہے کہ وہ موجودہ نجی ملکیتی جائیداد کو ختم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
وفاقی اور صوبائی حکومت نے اس دعوے کی مخالفت کی تھی اور اب اس فیصلے کے خلاف اپیلیں بھی زیرِ سماعت ہیں، جن میں وفاقی حکومت کی اپیل بھی شامل ہے۔
کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پولی ایو نے اس معاملے کو سیاسی طور پر اجاگر کرتے ہوئے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کی جماعت نے پارلیمنٹ میں ایک ایسی تجویز پیش کی جس میں خصوصی کمیٹی بنانے اور نجی جائیداد کے حقوق کو ترجیح دینے کا مطالبہ شامل تھا، اور یہ بھی کہا گیا کہ مستقبل میں کسی بھی معاہدے میں نجی ملکیت کو واضح تحفظ دیا جائے۔
تاہم لبرل پارٹی، این ڈی پی اور بلاک کیوبیکوا نے اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا جبکہ کنزرویٹو ارکان نے حمایت کی۔
کوئچن-مالہٹ-لینگفورڈ سے کنزرویٹو رکن پارلیمان جیف کیبل نے کہا کہ اس فیصلے نے ان کے علاقے میں بے یقینی اور تقسیم پیدا کی ہے، جبکہ ان کے ساتھی رکن مارک ڈالٹن نے کہا کہ یہ فیصلہ برٹش کولمبیا کے رہائشیوں کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ وہاں متعدد زمینی دعوے زیرِ التوا ہیں۔
دوسری جانب وزیرِ برائے مقامی تعلقات نے کہا کہ پارلیمان کو ایسے معاملے پر مداخلت نہیں کرنی چاہیے جو ابھی عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے بھی فیصلے کے قانونی اثرات واضح کرنے کے لیے اپیل دائر کی ہے، تاہم نجی جائیداد کا تحفظ ضروری ہے تاکہ شہریوں کو اپنے گھروں اور کاروبار کے حوالے سے اعتماد حاصل رہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت اصولی طور پر بعض نکات سے اتفاق کرتی ہے، لیکن پارلیمان کو اس معاملے کو سیاسی تنازع بنانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے غلط معلومات پھیلنے کا خدشہ ہے۔