اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)مناسکِ حج کی ادائیگی کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور حج کا سب سے اہم رکن، وقوفِ عرفہ، آج ادا کیا جائے گا۔
پیر کے روز آٹھ ذوالحج کو عازمینِ حج نے منیٰ میں یومِ ترویہ عبادات اور دعاؤں میں گزارا۔ شدید گرمی کے باعث زیادہ تر حجاج نے دن کا وقت خیموں میں آرام کرتے ہوئے گزارا، تاہم شام کے وقت موسم نسبتاً بہتر ہونے پر منیٰ کی گلیوں اور سڑکوں میں رونق بڑھ گئی۔
دنیا بھر سے آئے تقریباً بیس لاکھ عازمینِ حج اس وقت منیٰ میں موجود ہیں۔ عازمین نے ظہر اور عصر کی نمازیں باجماعت ادا کیں، جبکہ شام کے آغاز کے ساتھ ہی قافلوں کی شکل میں میدانِ عرفات کی طرف روانگی شروع ہو گئی۔
آج نو ذوالحج کو حج کا رکنِ اعظم وقوفِ عرفات ادا کیا جائے گا۔ تمام عازمین ظہر سے قبل میدانِ عرفات پہنچیں گے اور تاریخی مسجد نمرہ میں خطبۂ حج سماعت کریں گے۔ اس موقع پر خطبہ حج امام مسجد نبوی علی عبد الرحمن الحذیفی دیں گے۔
غروبِ آفتاب کے بعد حجاج مزدلفہ کی جانب روانہ ہوں گے جہاں وہ رات کھلے آسمان تلے عبادت اور قیام میں گزاریں گے۔
سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق منیٰ اور عرفات میں شدید گرمی برقرار رہنے کا امکان ہے اور درجہ حرارت تقریباً پینتالیس ڈگری تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے حکام نے سایہ دار جگہوں، کولنگ فینز اور طبی سہولیات میں اضافہ کیا ہے اور حجاج کو زیادہ پانی پینے اور ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔