امریکا-کینیڈا تجارتی مذاکرات میں پیش رفت، ٹرمپ اور کارنی کو ممکنہ معاہدے کے لیے ’آپشنز‘ پیش کیے جائیں گے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی اور کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد امریکی ٹیرف کے خطرے کے درمیان دونوں ممالک کے اعلیٰ تجارتی حکام نے جمعرات کو ایک اور اہم دور کے مذاکرات کیے ہیں، جس کے بعد امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کو مذاکرات کے حوالے سے مختلف "آپشنز” پیش کیے جائیں گے۔

جیمیسن گریر نے مذاکرات کے بعد سی بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ملاقاتوں کو "اچھی” اور "خوشگوار” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب امریکی حکام صدر ٹرمپ سے بات کریں گے جبکہ ان کے خیال میں کینیڈین حکام وزیراعظم مارک کارنی کو مذاکرات سے آگاہ کریں گے۔

یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اب تک کے واضح ترین اشاروں میں سے ایک ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کسی ممکنہ تجارتی راستے یا معاہدے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

کینیڈا مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار

ملاقات کے بعد کینیڈا-امریکا تجارت کے وزیر ڈومینک لی بلانک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ وہی کام جاری رکھیں گے جس کی کینیڈین عوام ان سے توقع کرتے ہیں۔

مزید ملاقاتوں کی تعداد یا مذاکرات مکمل ہونے کے ممکنہ وقت سے متعلق سوال پر لی بلانک نے کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جتنی ملاقاتوں کی ضرورت ہوگی، اتنی ملاقاتیں کی جائیں گی۔

لی بلانک اور کینیڈا کی چیف ٹریڈ نیگوشی ایٹر جینس شاریٹ نے جمعرات کی دوپہر جیمیسن گریر سے ملاقات کی۔ یہ رواں ہفتے دونوں ممالک کے تجارتی حکام کے درمیان دوسری جبکہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران چوتھی ملاقات تھی۔

ملاقات کے بعد جینس شاریٹ دوبارہ امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر پہنچیں، جہاں انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب کے ساتھ رات گئے تک بات چیت جاری رکھی۔

19 اگست سے 50 فیصد ٹیرف کا خطرہ

دونوں ممالک نے مذاکرات ایسے وقت میں تیز کیے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیکڑوں کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ یہ ٹیرف پہلے سے نافذ شعبہ جاتی محصولات کے علاوہ ہوں گے اور 19 اگست سے ان کے نفاذ کا امکان ہے۔

امریکی حکومت کے مطابق کینیڈا کے خلاف مجوزہ اقدامات کے پیچھے متعدد تجارتی تنازعات ہیں، جن میں امریکی تجارتی پالیسی کے جواب میں کینیڈین صوبوں کی دکانوں سے امریکی شراب ہٹانا اور امریکی گاڑیوں اور ڈیری مصنوعات کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق کینیڈین فریق ان میں سے بعض معاملات پر لچک دکھانے پر تیار ہے۔ کینیڈا امریکی شراب پر پابندی ختم کرنے، امریکی گاڑیوں پر جوابی ٹیرف اٹھانے اور ڈیری کے شعبے میں بعض تبدیلیوں پر غور کر رہا ہے۔

امریکی تجویز میں شعبہ جاتی ٹیرف میں کمی

اس سے قبل امریکی حکام نے منگل کو کینیڈا کو ایک نئی تجویز دی تھی جس کے تحت بعض شعبہ جاتی ٹیرف کم کیے جاسکتے ہیں، تاہم کینیڈین فریق کے نزدیک مجوزہ کمی مطلوبہ سطح سے کم ہے۔

امریکا ایسے معاہدے کا بھی خواہاں ہے جس کے تحت اسے کینیڈا کی اہم معدنیات تک ترجیحی رسائی حاصل ہو۔ مجوزہ معاہدے میں سکیورٹی اور توانائی کے معاملات بھی شامل کیے جانے کی بات کی جا رہی ہے۔

لی بلانک اور گریر کی کوشش ہے کہ ممکنہ تجارتی معاہدے کی جانب پیش رفت کا ایک راستہ صدر ٹرمپ کے سامنے جلد از جلد، ممکنہ طور پر پیر تک، پیش کیا جاسکے۔

دوسری جانب کینیڈین حکام امریکی فریق کو واضح کرچکے ہیں کہ اگر 19 اگست سے 50 فیصد ٹیرف نافذ ہوگئے تو کینیڈا میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے سیاسی حمایت برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

لی بلانک صوبوں اور مشاورتی کمیٹی کو بریف کریں گے

لی بلانک جمعہ کی دوپہر وفاقی حکومت کی کینیڈا-امریکا اقتصادی تعلقات سے متعلق مشاورتی کمیٹی کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

یہ کمیٹی ایک ایسے فورم کے طور پر کام کرتی ہے جہاں اراکین امریکا کے ساتھ کینیڈا کے اقتصادی تعلقات سے متعلق حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔

کیوسما معاہدے کے جائزے کے لیے کیوبیک کی نمائندہ لوئس بلیس کے مطابق لی بلانک جمعہ کو کینیڈا کے صوبوں کو بھی مذاکرات کی تازہ صورتحال پر بریف کریں گے۔

امریکی شراب دوبارہ اونٹاریو کی دکانوں پر آسکتی ہے

اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے بھی جمعرات کو کہا کہ اگر امریکا کے ساتھ ایسا منصفانہ معاہدہ طے پا جاتا ہے جو اونٹاریو کے اسٹیل، آٹو، جنگلات، زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کا تحفظ کرے تو وہ امریکی شراب کو دوبارہ صوبے کی دکانوں میں فروخت کے لیے لانے پر "بہت خوش” ہوں گے۔

فورڈ نے کہا کہ امریکا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کینیڈا پر لگایا جانے والا ٹیرف دراصل امریکی عوام پر ٹیکس کے مترادف ہے۔

کیوبیک کی جانب سے بھی اس سے ملتا جلتا مؤقف سامنے آیا ہے۔ صوبائی حکومت پہلے واضح کرچکی ہے کہ امریکی شراب کو کیوبیک کے سرکاری آؤٹ لیٹس سے ہٹانے کا فیصلہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک ایسا معاہدہ طے نہیں پاتا جسے صوبہ منصفانہ تصور کرے۔

کیوبیک حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ صوبے میں شراب کی فروخت کا معاملہ مکمل طور پر صوبائی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ بھی کیوبیک خود کرے گا۔

ہمیں فالو کریں