اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں مستقل رہائش کے تیز رفتار خصوصی پروگرام کی بحالی کے اعلان کے بعد ہزاروں درخواست گزاروں میں امید کی نئی لہر پیدا ہوگئی ہے، تاہم مستقبل کے قواعد و ضوابط سے متعلق بے یقینی اب بھی برقرار ہے۔
صوبائی وزیرِاعلیٰ کرسٹین فریشیٹ نے اعلان کیا ہے کہ بند کیا گیا خصوصی امیگریشن پروگرام دوبارہ کھولا جائے گا اور آئندہ دو برس تک فعال رہے گا۔ یہ پروگرام صوبے میں تعلیم یا ملازمت کرنے والے افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کا نسبتاً تیز راستہ فراہم کرتا تھا۔
یونیورسٹی دو کیوبیک آ مونٹریال میں ریاضی کے استاد الیخاندرو مورالیس بوریرو نے کہا کہ پروگرام بند ہونے کے بعد وہ اور ان کا خاندان پندرہ ماہ تک شدید بے یقینی کا شکار رہے۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے دوبارہ کیوبیک میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن پروگرام کی معطلی نے ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
انہوں نے بتایا کہ نئی درخواست کے لیے دستاویزات جمع کرنے میں چھ ہفتے لگے تھے اور اگر دوبارہ درخواست دینا پڑی تو ایک سال ضائع ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال کی مدت خوش آئند ہے، مگر حکومت کو ایسے حفاظتی اقدامات بھی متعارف کرانے چاہییں تاکہ درخواست گزار مزید مشکلات کا شکار نہ ہوں۔
دوسری جانب تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم کے ترجمان نادیر بلعید نے کہا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے جبکہ بہت سے افراد کے ملازمت کے اجازت نامے ختم ہونے کے قریب ہیں۔ ان کے مطابق اب تک یہ واضح نہیں کہ پروگرام پرانے قواعد کے تحت بحال ہوگا یا نئی شرائط نافذ کی جائیں گی۔
ماہرینِ امیگریشن کا کہنا ہے کہ پروگرام کی بحالی کے بعد درخواستوں کی بڑی تعداد سامنے آنے کا امکان ہے۔ امیگریشن وکیل ویویان البوکرکی نے کہا کہ پروگرام کی معطلی عارضی تھی اور اب اس کی بحالی کے بعد بڑی تعداد میں لوگ درخواستیں جمع کرائیں گے۔
یہ پروگرام گزشتہ برس اُس وقت بند کردیا گیا تھا جب صوبائی حکومت نے امیگریشن کی شرح میں تقریباً پچیس فیصد کمی کردی تھی، جس کے بعد کئی برس سے صوبے میں کام اور تعلیم مکمل کرنے والے درخواست گزار شدید مشکلات کا شکار ہوگئے تھے۔