اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) وزیرِاعظم شہباز شریف نے ہاؤسنگ فنانس سے متعلق ایک اہم رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری طور پر تفصیلی جائزہ اور حقائق پر مبنی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
یہ اقدام اس خبر کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا جس میں حکومت کی بھاری مالیت کی ہاؤسنگ اسکیم اور سود کے خاتمے سے متعلق آئینی ہدف کے درمیان ممکنہ عدم مطابقت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم نے ہدایت دی ہے کہ اس بات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے کہ آیا موجودہ ہاؤسنگ فنانس پروگرام آئینی تقاضوں کے مطابق ہے یا اس میں کسی بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر اس پہلو پر غور کیا جا رہا ہے کہ قرضوں کی مدت اور ان کی واپسی کا موجودہ نظام آئندہ مقررہ آئینی مدت کے بعد بھی کسی صورت سودی نظام کے تسلسل کا باعث تو نہیں بنتا۔
اس ہاؤسنگ منصوبے کے تحت کم آمدنی والے افراد کو ایک کروڑ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، جن پر ابتدائی مدت کے دوران ایک مقررہ شرح نافذ ہے، جبکہ بعد کے برسوں میں مارکیٹ کے مطابق شرح سود لاگو ہونے کا امکان ہے۔ اس پروگرام کے لیے حکومت نے بھاری مالی وسائل مختص کیے ہیں اور آئندہ چند برسوں میں ہزاروں گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق اس معاملے پر قانونی ماہرین، مالیاتی اداروں اور متعلقہ ریگولیٹری حکام سے مشاورت جاری ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا موجودہ ماڈل کو برقرار رکھا جا سکتا ہے یا اسے مکمل طور پر اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق نئے ڈھانچے میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ پیشرفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت سود سے پاک مالیاتی نظام کی طرف منتقلی کے آئینی ہدف کو نہایت سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور چاہتی ہے کہ تمام سرکاری مالیاتی اسکیمیں اس قومی ہدف کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم کو آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے جامع رپورٹ پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کی روشنی میں آئندہ پالیسی اور عملی فیصلے کیے جائیں گے۔