اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرنے اور اسے جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اس حوالے سے وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں منصوبے کی پیش رفت اور آئندہ حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں متعلقہ حکام نے بتایا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام کے لیے اس شمسی بجلی منصوبے کے تمام اخراجات خود برداشت کرے گی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ یہ منصوبہ خطے میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے اس کی تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعظم نے منصوبے کی ہر سطح پر شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے غیر جانبدار تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کا نظام نافذ کرنے پر بھی زور دیا تاکہ تمام مراحل میں معیار اور احتساب برقرار رکھا جا سکے۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی سرکاری عمارتوں کے لیے اٹھارہ میگاواٹ شمسی توانائی کا علیحدہ منصوبہ بھی جاری ہے، جس کے تحت گلگت اور دیامر ڈویژن کی سرکاری عمارتوں کے لیے یہ منصوبہ دسمبر دو ہزار چھبیس تک مکمل کیا جائے گا، جبکہ بلتستان ڈویژن میں سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن اکتوبر دو ہزار چھبیس تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ گلگت، سکردو، چلاس اور خپلو میں گھریلو صارفین کے لیے بائیس میگاواٹ کے بجائے مجموعی طور پر بائیاسی میگاواٹ کا شمسی توانائی منصوبہ بھی زیرِ عمل ہے، جس پر کام تیزی سے جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔