اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے قومی ادارہ شماریات کے مطابق فروری کے دوران ملک کی معیشت میں مسلسل چوتھے مہینے بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم پہلی سہ ماہی کے اختتام کی جانب رفتار میں کمی کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں۔
ادارے کی رپورٹ کے مطابق حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں فروری کے دوران صفر اعشاریہ دو فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ صنعت کاری کے شعبے میں ایک اعشاریہ آٹھ فیصد نمایاں ترقی رہی۔ یہ گزشتہ تین برسوں میں اس شعبے کی تیز ترین رفتار سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشینری بنانے کے ذیلی شعبے نے سب سے زیادہ کردار ادا کیا، جبکہ نقل و حمل کے آلات تیار کرنے والے شعبے میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی۔ اونٹاریو میں کئی گاڑیوں کے کارخانے، جو جنوری میں مرمت اور بہتری کے کام کے باعث بند تھے، فروری میں دوبارہ فعال ہوئے جس سے پیداوار میں اضافہ ہوا۔
تاہم سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو صنعت کاری کی سرگرمیاں اب بھی تین اعشاریہ ایک فیصد کم رہیں، جس کی وجہ امریکہ کی جانب سے تقریباً ایک سال تک جاری رہنے والے تجارتی دباؤ اور محصولات کو قرار دیا جا رہا ہے۔
فروری میں تھوک تجارت، نقل و حمل اور گوداموں کے شعبوں نے بھی معیشت کو سہارا دیا، جبکہ سرکاری شعبے میں کمی اور فنون، تفریح اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں سست روی نے مجموعی ترقی کو متاثر کیا۔ خاص طور پر شائقین کے کھیلوں کی سرگرمیاں کم رہیں کیونکہ کھلاڑی اٹلی میں ہونے والے اولمپک مقابلوں میں مصروف تھے۔
ابتدائی اندازوں کے مطابق مارچ میں مجموعی قومی پیداوار تقریباً مستحکم رہی، جس کے باعث پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر ایک اعشاریہ سات فیصد اضافہ متوقع ہے۔ مارچ میں تھوک تجارت اور نقل و حمل کے شعبوں میں بہتری دیکھی گئی، لیکن خردہ تجارت، کان کنی اور تیل و گیس کے شعبوں میں کمی نے اس کو متوازن کر دیا۔
ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے میں موسمی مرمت اور ٹیکساس میں ایک اہم ریفائنری میں دھماکے نے بھی تیل کی ترسیل کو متاثر کیا، جس کا اثر معیشت پر پڑا۔
مرکزی بینک نے بھی اپنی تازہ رپورٹ میں پہلی سہ ماہی کے لیے ایک اعشاریہ پانچ فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی ہے۔ ادارہ شماریات کی جانب سے مارچ اور پہلی سہ ماہی کے حتمی اعداد و شمار مئی کے آخر میں جاری کیے جائیں گے، جس سے معیشت کی اصل صورتحال مزید واضح ہوگی۔