ارد ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ امریکی بمباری کی وجہ سے اپنے پڑوسیوں اور امریکہ کے مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت میں نمایاں کمی آگئی ۔
تہران کا دفاعی شعبہ 90 فیصد پیچھے ہٹ گیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جمعہ کو ایک بیان میں بریڈ کوپر نے ایران کے خلاف فوجی مہم کی تزویراتی کامیابیوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔ اس مہم کی انہوں نے نگرانی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ نے مجموعی طور پر مشرق وسطی کے خطے کے لیے ایران کے پیدا کردہ خطرے کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔بریڈ کوپر نے ان رپورٹس پر براہ راست تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جن میں بتایا گیا ہے کہ ایران ، جس نے زیر زمین تنصیبات میں ہتھیاروں کا ذخیرہ کر رکھا ہے، نے میزائل اور ڈرون کے شعبے میں بڑی صلاحیتیں برقرار رکھی ہوئی ہیں۔
بریڈ کوپر نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے کہا کہ ایرانی خطرہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے اور وہ اب علاقائی شراکت داروں یا امریکہ کے لیے اس طرح خطرہ نہیں بن رہا جیسا کہ وہ پہلے مختلف شعبوں میں خطرہ بننے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ اس کی صلاحیت بہت حد تک کم ہو گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب خطے میں اپنے اہم اتحادیوں، لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثیوں اور غزہ کی پٹی میں حماس کو اسلحہ اور دیگر وسائل منتقل کرنے کے قابل نہیں رہا۔ نقل و حمل کے وہ راستے اور طریقے کاٹ دیے گئے ہیں۔