مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہیں، تاہم امریکا نے مستقبل قریب میں قیمتوں میں نمایاں کمی کی امید ظاہر کردی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ Scott Bessent نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش وقتی صورتحال ہے اور جلد عالمی سپلائی چین معمول پر آ جائے گی، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں توانائی کی ترسیل میں رکاوٹیں کبھی کبھار پیدا ہوتی رہتی ہیں، لیکن موجودہ بحران مستقل نوعیت کا نہیں۔ ان کے مطابق عالمی مارکیٹ میں موجود بے یقینی ختم ہوتے ہی قیمتوں پر دباؤ کم ہونا شروع ہو جائے گا۔
اسکاٹ بیسنٹ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ China آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے، کیونکہ چینی معیشت کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کیے جانے والے تیل پر انحصار کرتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر موجود ہیں، جہاں انہوں نے چینی صدر Xi Jinping سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، تجارت اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ امریکا اس وقت ریکارڈ مقدار میں تیل پیدا کر رہا ہے اور پیداوار میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جس سے نہ صرف توانائی کی قیمتوں بلکہ مہنگائی میں بھی کمی آئے گی۔
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال معمول پر آتی ہے تو آنے والے مہینوں میں عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔