اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی شیڈولنگ وجوہات کے باعث نئی دہلی میں ہونے والے برکس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
اس حوالے سے چین کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بھارت میں چینی سفیر برکس اجلاس میں چین کی نمائندگی کریں گے۔یہ اجلاس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے دوران ہی ہو رہا ہے، چینی وزیرِ خارجہ صدر ٹرمپ کے دورے کے دوران بیجنگ میں موجود رہیں گے۔
چینی حکام کے مطابق یہ فیصلہ شیڈولنگ وجوہات کے باعث کیا گیا ہے، جبکہ اجلاس میں چین کی نمائندگی نئی دہلی میں تعینات چینی سفیر کریں گے۔تفصیلات کے مطابق یہ اہم اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر معاشی اور سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، اور بڑی طاقتوں کے درمیان تعلقات مختلف سفارتی مراحل سے گزر رہے ہیں۔ برکس اجلاس میں رکن ممالک عالمی معیشت، تجارت، ترقیاتی تعاون اور بین الاقوامی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں
ٹرمپ کا چین کا تاریخی دورہ، بیجنگ میں شی جن پنگ سے طویل ملاقات، عالمی امور پر اہم گفتگو
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق وانگ یی کی عدم شرکت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ امریکی صدر کے دورۂ چین کے دوران بیجنگ میں موجود رہیں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق چین کی قیادت اس وقت امریکا کے ساتھ تعلقات، تجارتی معاملات اور عالمی اسٹریٹجک امور پر اعلیٰ سطحی مشاورت اور ملاقاتوں کو ترجیح دے رہی ہے، جس کے باعث وزیرِ خارجہ کی مصروفیات میں تبدیلی کی گئی ہے۔
بھارت میں ہونے والے برکس اجلاس میں چین کی نمائندگی اگرچہ سفارتی سطح پر جاری رہے گی، تاہم وزیرِ خارجہ کی غیر موجودگی کو بعض مبصرین سفارتی مصروفیات کی ترجیحات اور عالمی سفارتی توازن کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ معاشی تعاون اور اسٹریٹجک مفادات کے نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہیں، اور ہر اہم سفارتی اجلاس عالمی سیاست پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔