کینیڈا میں جنگلات کی آگ کے باعث ’سپر اسکوپر‘ طیاروں کی طلب بڑھ گئی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا، امریکا اور یورپ میں جنگلات کی آگ کے ایک اور شدید سیزن کے دوران آگ بجھانے والے خصوصی طیاروں کی ضرورت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔

مسلسل پھیلتی جنگلاتی آگ نے کینیڈا کے مشہور ’کینیڈائر سپر اسکوپر‘ واٹر بمبار طیاروں کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر کردی ہے، جس کے بعد ان طیاروں کی پیداوار بڑھانے اور حکومت کی جانب سے بڑی تعداد میں نئے طیارے خریدنے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

شدید آگ کا چیلنج

جنگلات میں لگنے والی آگ نے حالیہ برسوں میں کینیڈا سمیت شمالی امریکا اور یورپ کے کئی علاقوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ خشک موسم، بلند درجہ حرارت اور تیز ہواؤں کے باعث بعض مقامات پر آگ تیزی سے پھیلتی ہے، جسے قابو کرنے کے لیے زمینی عملے کے ساتھ فضائی مدد بھی انتہائی اہم بن جاتی ہے۔

ایسے حالات میں ’سپر اسکوپر‘ طیارے اپنی خصوصی صلاحیت کے باعث انتہائی کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ یہ طیارے پانی کے بڑے ذخائر اٹھا کر متاثرہ علاقوں میں پہنچاتے اور آگ کی شدت کم کرنے میں فائر فائٹرز کی مدد کرتے ہیں۔

پیداوار دوبارہ شروع

کینیڈا کی کمپنی ڈی ہیولینڈ، جو کیلگری میں قائم ہے، نے کینیڈائر واٹر بمبار پروگرام حاصل کرنے کے بعد ان طیاروں کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے کا غیر معمولی فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سمرلینڈ کے قریب تباہ کن جنگلاتی آگ، بی سی کے پریمیئر کا ہنگامی ردعمل کا جائزہ لینے کا اعلان

یہ طیارے ماضی میں بمبارڈیئر تیار کرتی تھی، تاہم 2015 کے بعد ان کی نئی پیداوار روک دی گئی تھی۔ اب ڈی ہیولینڈ نے اس پروگرام کو دوبارہ زندہ کرکے ایک ایسے وقت میں طیاروں کی تیاری کا سلسلہ شروع کیا ہے جب دنیا بھر میں جنگلاتی آگ کے واقعات اور ان سے نمٹنے کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔

2022 میں اعلان

کمپنی نے کینیڈائر طیاروں کی بحال شدہ پروڈکشن لائن کا اعلان 2022 میں کیا تھا۔ کئی برس بعد دوبارہ شروع ہونے والی یہ پیداوار اب عملی مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور پہلے دو نئے طیارے تیاری کے مراحل میں ہیں۔

کمپنی کے مطابق دونوں طیاروں کی تیاری مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے اور انہیں 2028 کے اوائل میں مکمل کرکے متعلقہ صارفین کے حوالے کیے جانے کی توقع ہے۔

ہاتھ سے تیاری

کینیڈائر ’سپر اسکوپر‘ کی تیاری عام کمرشل مسافر طیاروں کے مقابلے میں خاص نوعیت رکھتی ہے۔ ان طیاروں کی بڑی تعداد میں اسمبلی ہاتھ سے کی جاتی ہے، جبکہ ان کی تیاری میں کینیڈا کے مختلف حصوں سے حاصل ہونے والے پرزہ جات اور دیگر سامان شامل ہوتا ہے۔

کیلگری میں قائم ڈی ہیولینڈ کی تنصیب اس پورے عمل کا اہم مرکز ہے، جہاں ملک بھر سے آنے والی سپلائی چین کے ذریعے طیاروں کی تیاری مکمل کی جاتی ہے۔

حکومت سے بڑے آرڈر کا مطالبہ

موجودہ صورتحال میں دباؤ صرف کمپنی پر پیداوار تیز کرنے کے لیے نہیں بلکہ وفاقی حکومت پر بھی بڑھ رہا ہے کہ وہ ان طیاروں کے بڑے پیمانے پر آرڈر دے۔

 

ماہرین اور فائر مینجمنٹ سے وابستہ حلقوں کے لیے یہ سوال اہم بن گیا ہے کہ مستقبل میں جنگلاتی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے کینیڈا کے پاس فضائی وسائل کی کتنی گنجائش ہونی چاہیے۔

بڑے سرکاری آرڈر سے کمپنی کو پیداوار میں اضافے کے لیے مزید سرمایہ کاری اور سپلائی چین کو وسعت دینے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ حکومت کو طویل مدت میں آگ بجھانے کے لیے اپنے فضائی بیڑے کو مضبوط بنانے کا موقع بھی ملے گا۔

عالمی سطح پر مانگ

کینیڈائر ’سپر اسکوپر‘ طیارے دنیا بھر میں جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے اپنی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی خاص ساخت انہیں پانی بھرنے اور مختصر وقفے میں دوبارہ آگ کے متاثرہ علاقے تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے۔

کینیڈا کے علاوہ امریکا اور یورپ میں بھی جنگلاتی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے باعث ایسے طیاروں کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی حلقے نئی پیداوار کو صرف کینیڈا کی ضرورت نہیں بلکہ عالمی سطح پر فائر فائٹنگ صلاحیت بڑھانے کے لیے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

2028 میں نئی امید

پہلے دو نئے طیاروں کی تیاری اس منصوبے کے لیے اہم سنگ میل ہے۔ اگر یہ طیارے مقررہ وقت پر مکمل ہوکر سروس میں شامل ہوگئے تو کینیڈائر سپر اسکوپر پروگرام کی بحالی عملی طور پر ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔

جنگلاتی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر آنے والے برسوں میں ان طیاروں کی طلب مزید بڑھنے کا امکان ہے، تاہم پیداوار میں تیزی لانے کے لیے کمپنی کو طویل مدتی آرڈرز، سرمایہ کاری اور مستحکم سپلائی چین کی ضرورت ہوگی۔

یوں کینیڈا کے مشہور ’سپر اسکوپر‘ طیارے ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جبکہ 2028 میں پہلے نئے طیاروں کی ممکنہ ڈلیوری اس پروگرام کی بحالی کے بعد سب سے اہم مرحلہ ہوگی۔

ہمیں فالو کریں