اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کی حکومت نے متنازع نجی طیارہ صرف بارہ دن بعد واپس فروخت کر دیا، تاہم اس مختصر مدت میں بھی عوامی خزانے کو تقریباً دو لاکھ ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت نے پندرہ اپریل دو ہزار چھبیس کو استعمال شدہ بمبارڈیئر چیلنجر چھ سو پچاس طیارہ اکیس ملین امریکی ڈالر میں خریدا تھا، مگر عوامی تنقید کے بعد ستائیس اپریل کو اسی قیمت پر واپس فروخت کر دیا گیا۔
اگرچہ خرید و فروخت ایک ہی قیمت پر ہوئی، لیکن طیارے کی دیکھ بھال، پارکنگ، قانونی خدمات اور دیگر انتظامی اخراجات کی مد میں ایک لاکھ نوے ہزار آٹھ سو پینسٹھ ڈالر سے زائد خرچ ہوئے۔
صوبائی وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے ابتدا میں طیارہ خریدنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی علاقوں کی ترقی اور امریکا کے ساتھ جاری محصولات کے تنازع میں یہ طیارہ مفید ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سرکاری امور کے لیے مسلسل سفر کرنا پڑتا ہے۔
تاہم شدید عوامی ردِعمل کے بعد انہوں نے فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے فوری طور پر طیارہ واپس فروخت کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس طیارے کو “عیاشی کا طیارہ” قرار دیتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔