اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی لبرل پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ نے کنزرویٹو پارٹی کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا جس میں ہاؤس آف کامنز کی اخلاقیات کمیٹی سے حکومت کے اس منصوبے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس کے تحت برٹش کولمبیا میں فروخت نہ ہونے والے کنڈومینیمز کو کم لاگت رہائش میں تبدیل کیا جانا ہے۔
وفاقی لبرل حکومت نے گزشتہ ماہ برٹش کولمبیا کی صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر اعلان کیا تھا کہ دونوں حکومتیں تقریباً 2,200 خالی کنڈومینیم یونٹس خرید کر انہیں سستے رہائشی گھروں میں تبدیل کریں گی۔
کنزرویٹو پارٹی نے اس منصوبے کی تحقیقات کے لیے ہاؤس آف کامنز کی اخلاقیات کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا، جہاں برٹش کولمبیا سے تعلق رکھنے والے کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ ایرن گن نے ایک قرارداد پیش کی۔
قرارداد میں اس منصوبے کو لبرل پارٹی سے منسلک تعمیراتی کمپنیوں کے لیے "بیل آؤٹ” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا گیا کہ حکومت ایسے ڈویلپرز کو سہارا دے رہی ہے جو اپنے کنڈومینیمز نقصان میں فروخت نہیں کرنا چاہتے۔
قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ متعدد اجلاس منعقد کیے جائیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ اس منصوبے کے لیے اوٹاوا پر کس نے لابنگ کی، اور اس سلسلے میں وفاقی اور برٹش کولمبیا کے وزرائے ہاؤسنگ سمیت صوبے کے کنڈومینیم ڈویلپرز کو بھی طلب کیا جائے۔
لبرل رکن پارلیمنٹ فارس السعد نے مؤقف اختیار کیا کہ تقریباً 150 ملین ڈالر کے وفاقی فنڈز کو کم آمدنی والے کینیڈین شہریوں کے لیے رہائش فراہم کرنے پر خرچ کرنا ایک مثبت اور مناسب اقدام ہے۔
اجلاس کے دوران لبرل اراکین نے کمیٹی میں اپنی اکثریت استعمال کرتے ہوئے مزید بحث روک دی، جس کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔