اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) این ایچ ایل پلے آفز میں مونٹریال کینیڈینز کا یادگار اور سنسنی خیز سفر بالآخر اختتام کو پہنچ گیا، جب کیرولائنا ہریکینز نے سیریز کے پانچویں میچ میں 6-1 سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے اسٹینلے کپ فائنل میں جگہ بنا لی۔
شکست نے شائقین کو مایوس کیا، تاہم ٹیم کی مجموعی کارکردگی نے مستقبل کے لیے امیدوں کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔مونٹریال کینیڈینز نے پلے آفز کے دوران کئی مضبوط حریفوں کو شکست دے کر مشرقی کانفرنس کے فائنل تک رسائی حاصل کی، لیکن کیرولائنا کی منظم، تجربہ کار اور مکمل طور پر فٹ ٹیم کے سامنے ان کی پیش قدمی رک گئی۔ مسلسل 41 دنوں میں 19 سخت مقابلے کھیلنے والی مونٹریال ٹیم جسمانی اور ذہنی طور پر تھکن کا شکار دکھائی دی، جبکہ کیرولائنا نسبتاً کم میچ کھیل کر زیادہ تازہ دم حالت میں میدان میں اتری۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مونٹریال کی موجودہ ٹیم ابھی اپنی مکمل صلاحیت تک نہیں پہنچی۔
نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل یہ اسکواڈ مستقبل میں لیگ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شامل ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر آئیون ڈیمیڈوف جیسے ابھرتے ہوئے ستارے شاندار صلاحیتوں کے مالک ہیں، تاہم ٹیم کو ایک مضبوط دوسرے لائن سینٹر کی ضرورت ہے تاکہ حملہ آور کھیل میں مزید توازن پیدا کیا جا سکے۔اس کے علاوہ جسمانی کھیل میں بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ پلے آفز کے آخری مراحل میں مونٹریال اپنے حریفوں پر وہ دباؤ برقرار نہ رکھ سکی جو چیمپئن شپ جیتنے والی ٹیموں کی پہچان ہوتا ہے۔
انتظامیہ کے پاس تنخواہوں کی حد میں خاطر خواہ گنجائش موجود ہے اور نوجوان کھلاڑیوں کی ایک مضبوط کھیپ بھی ترقی کے مراحل میں ہے، جس سے مستقبل مزید روشن دکھائی دیتا ہے۔اگرچہ اس وقت شکست کا دکھ شائقین کے لیے تکلیف دہ ہے، لیکن بیشتر مبصرین کا ماننا ہے کہ مونٹریال کینیڈینز کی اصل کامیابیوں کا سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ تجربہ، بہتر کھلاڑیوں کی شمولیت اور مسلسل ترقی کے ساتھ یہ ٹیم آنے والے برسوں میں اسٹینلے کپ جیتنے کی مضبوط امیدوار بن سکتی ہے۔