اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ٹورنٹو کی ایک عدالت میں جیوری نے بدھ کے روز لیبرٹی ولیج کے علاقے میں اپنے ہمسائے کے قتل کے مقدمے میں ایک شخص اور اس کی بیوی کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ مقتول 53 سالہ فلم ساز ریاض حبیب تھے۔
جیوری نے 36 سالہ کھوا ٹران کو دوسرے درجے کے قتل کا مجرم قرار دیا، جبکہ اس کی اہلیہ ایزابیلا نگوین کو قتل میں معاونت اور انسانی جسم کی بے حرمتی کے الزام میں مجرم پایا گیا۔
دونوں ملزمان اسی ٹاؤن ہاؤس کمپلیکس میں رہتے تھے جہاں مقتول رہائش پذیر تھے، جو 26 ویسٹرن بیٹری روڈ پر واقع ہے۔ عدالت میں بتایا گیا کہ 6 جون 2023 کی رات مقتول کے اپارٹمنٹ سے چیخ و پکار کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ دو دن بعد 8 جون کو ان کی لاش عمارت کے زیرِ زمین گیراج میں موجود کچرا تلف کرنے والی مشین سے برآمد ہوئی۔
پراسیکیوشن کے مطابق قتل سے قبل ہمسایوں کے درمیان جھگڑا چل رہا تھا، جس کی وجہ باربی کیو کے دھوئیں کا مقتول کے اپارٹمنٹ تک پہنچنا بتایا گیا۔
ملزم کھوا ٹران نے عدالت میں بیان دیا کہ اس نے چیخنے چلانے اور سیڑھیوں سے گرنے جیسی آوازیں سنیں، تاہم اسے اس وقت یہ اندازہ نہیں ہوا کہ کوئی سنگین جرم ہو رہا ہے۔ اس کے مطابق اسے لگا کہ ممکن ہے مقتول کسی ذہنی دباؤ یا فلمی منظر کی شوٹنگ میں مصروف ہوں۔
عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم نے پولیس سے گفتگو کے دوران شروع میں ان آوازوں کا ذکر نہیں کیا تھا، جس پر پراسیکیوشن نے اس سے سوالات کیے۔
مقدمے کے دوران جج نے اس واقعے کو انتہائی سنگین نوعیت کا قرار دیا۔ عدالت نے دونوں کی ضمانت منسوخ کر دی ہے اور سزا سنانے کی تاریخ 9 ستمبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
کھوا ٹران کو اس مقدمے میں عمر قید کی سزا کا سامنا ہے، جس میں پیرول کی اہلیت عدالت طے کرے گی، جبکہ اس کی اہلیہ کے لیے سزا کی حد 18 ماہ سے 5 یا 6 سال تک ہو سکتی ہے۔