اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے مشیروں کو ایران کے خلاف طویل المدتی بحری ناکہ بندی کی تیاری کی ہدایت دی ہے۔ ان کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد ایران کی معیشت اور تیل کی برآمدات پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں سے آنے جانے والی سمندری تجارت کو روکا جائے اور دباؤ جاری رکھا جائے۔ ان کے مطابق براہِ راست فوجی کارروائی یا بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنے کے بجائے ناکہ بندی زیادہ مؤثر اور کم خطرناک طریقہ ہے۔
امریکی فوجی ذرائع کے مطابق اس دباؤ کے باعث ایران کی سمندری تجارت متاثر ہوئی ہے اور بعض بندرگاہوں پر جہازوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب ایران نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط بھیجا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ایرانی جہازوں کو روکنا اور ان کے اثاثے ضبط کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور یہ عمل سمندری قزاقی کے مترادف ہے۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی ادارہ فوری طور پر امریکہ کو حکم دے کہ وہ ایرانی جہازوں کو رہا کرے۔ ایران کے مطابق اس طرح کے اقدامات خطے اور دنیا کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
اس سے پہلے ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران اندرونی طور پر شدید بحران کا شکار ہے اور اس نے امریکہ سے آبنائے ہرمز کھولنے کی درخواست کی ہے، تاہم ایران کی طرف سے اس بیان کی کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی بڑھتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔