اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) غیر ملکی خبر ایجنسیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف ممکنہ مشترکہ کارروائی کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور یہ حملے آئندہ ہفتے شروع کیے جا سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے بعد خطے میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔امریکی حکام کے حوالے سے جاری رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے خلاف اب تک کی ’’سب سے سخت‘‘ عسکری تیاریوں پر کام کر رہے ہیں۔ ممکنہ اہداف میں ایرانی فوجی اڈے، حساس تنصیبات اور اہم انفرا اسٹرکچر شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق زیر غور عسکری منصوبوں میں ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہے، جبکہ حساس جوہری مواد تک رسائی کے لیے خصوصی کمانڈوز کی تعیناتی جیسے آپشنز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار نے مقامی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل فوری جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اب امریکی صدر ٹرمپ کے حتمی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔علاقائی مبصرین کے مطابق اگر امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف نئی کارروائی شروع کی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تیل منڈی، بین الاقوامی تجارت اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔