اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی جنگلاتی صنعت میں روایتی طریقہ کار کے خاتمے اور ایک نئی سمت اختیار کرنے کی بحث تیز ہو گئی ہے، جہاں حکام کے مطابق لکڑی کی کٹائی اور اس پر فیس وصول کرنے کے پرانے ماڈل کا دور اب ختم ہونے کے قریب ہے۔
قدرتی وسائل کے وزیر کے پارلیمانی سیکرٹری کوری ہوگن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کینیڈین کونسل آف فاریسٹ منسٹرز کے اجلاس کے بعد انہیں صنعت کے مستقبل کے حوالے سے امید محسوس ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے غیر منصفانہ ٹیرف اور عالمی منڈی میں تبدیلیوں نے صنعت کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے، خصوصاً اخباری کاغذ جیسی مصنوعات کی مانگ میں کمی نے صورتحال مزید خراب کی ہے۔
ایک حالیہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اس شعبے کو درپیش سب سے بڑے مسائل بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہیں، جن میں سخت ضوابط، مینوفیکچرنگ میں کم سرمایہ کاری، جدت کی کمی اور مقامی سطح پر لکڑی کی کم طلب شامل ہیں۔
حکام کے مطابق وفاقی حکومت آنے والے چند دنوں میں ایک عملی منصوبہ پیش کرے گی، جو بعد میں ایک قومی حکمت عملی کی شکل اختیار کرے گا تاکہ جنگلاتی شعبے کو دوبارہ فعال اور مضبوط بنایا جا سکے۔
برٹش کولمبیا کے جنگلات کے وزیر راوی پرمار نے کہا کہ تمام صوبوں کے وزراء اس بات پر متفق ہیں کہ اب صرف خام لکڑی امریکہ کو برآمد کرنے کا پرانا ماڈل قابل عمل نہیں رہا۔ ان کے مطابق کینیڈا اب انڈونیشیا اور برازیل جیسے ممالک کے ساتھ مقابلہ کر رہا ہے، جو گودے کی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ میں مضبوط پوزیشن رکھتے ہیں، اور اس مقابلے میں کینیڈا کو مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی رپورٹ وفاقی حکومت کی طرف سے صوبوں اور علاقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی آمادگی کا اشارہ ہے۔ ان کے مطابق برٹش کولمبیا اس عمل میں بھرپور حصہ لینے کے لیے تیار ہے تاکہ جنگلاتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور اس صنعت سے وابستہ ملازمین کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔