چینی حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے ژانگ ژینیان کا کینیڈا میں جدوجہد جاری رکھنے کا عزم

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)چینی حکومت کے ناقد اور انسانی حقوق کے کارکن ژانگ ژینیان (Zhang Xinyan) نے کہا ہے کہ وہ کینیڈا پہنچنے کے بعد بھی چین میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

ژانگ کا کہنا ہے کہ کینیڈا آنے کے بعد انہیں آزادی اظہار کا ایسا ماحول ملا ہے جہاں وہ اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں، تاہم ان کی جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔ وہ چین میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CCP) کی پالیسیوں اور مبینہ جبر کے خلاف اپنی مہم جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

چین میں دباؤ کا دعویٰ

ژانگ ژینیان کے مطابق چین میں حکومت کے ناقدین، کارکنوں اور اختلافی آوازوں کو مسلسل دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ چین میں سیاسی معاملات پر کھل کر بات کرنا آسان نہیں اور حکومت کے خلاف رائے رکھنے والے افراد کو نگرانی، دھمکیوں اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے لیے کینیڈا منتقل ہونا صرف ایک محفوظ جگہ حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنی آواز کو مزید مضبوط کرنا بھی ہے۔

کینیڈا میں اظہار رائے کی آزادی

ژانگ کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں انہیں اپنے خیالات بیان کرنے کی آزادی حاصل ہے، جسے وہ ایک اہم موقع سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ یہاں رہتے ہوئے چینی شہریوں کے مسائل، انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ان کے مطابق خاموش رہنا ان کے لیے ممکن نہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کو ان معاملات کے بارے میں معلومات حاصل ہونی چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں :کینیڈا کے برٹش کولمبیا میں جنگلاتی آگ بے قابو، ہزاروں افراد انخلا پر مجبور، سیکڑوں گھر تباہ

چینی حکومت پر تنقید

ژانگ ژینیان ان افراد میں شامل ہیں جو چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بعض اقدامات پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ چین میں سیاسی نظام کے اندر اختلاف رائے کے لیے جگہ محدود ہے اور حکومت کو تنقید برداشت کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہئیں۔تاہم چینی حکومت ماضی میں ایسے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے اور مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی موجود ہے اور قومی سلامتی کے قوانین عوام کے تحفظ کے لیے ہیں۔

کینیڈا میں چینی نژاد کارکنوں کی سرگرمیاں

ژانگ کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا میں چین سے تعلق رکھنے والے بعض کارکن اور سیاسی پناہ لینے والے افراد بیجنگ کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔کینیڈا میں موجود مختلف گروپس کا کہنا ہے کہ تارکین وطن اور سیاسی کارکنوں کو اپنے خیالات کے اظہار کا حق حاصل ہونا چاہیے، تاہم بعض افراد کو بیرون ملک رہتے ہوئے بھی دباؤ کا سامنا کرنے کے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں۔

سیکیورٹی خدشات اور بحث

کینیڈا میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران غیر ملکی حکومتوں کے مبینہ اثر و رسوخ اور بیرون ملک رہنے والے افراد پر دباؤ کے معاملات پر بھی بحث ہوئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں موجود ہر شخص کو آزادی اظہار کا حق حاصل ہے، لیکن اگر کوئی غیر قانونی سرگرمی سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

ژانگ کا مستقبل کا منصوبہ

ژانگ ژینیان کا کہنا ہے کہ وہ کینیڈا میں رہتے ہوئے اپنی آواز کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کریں گے۔وہ چاہتے ہیں کہ چین میں انسانی حقوق، آزادی اظہار اور سیاسی اختلاف سے متعلق معاملات عالمی سطح پر زیر بحث رہیں۔ان کے مطابق ان کی جدوجہد کسی فرد یا ملک کے خلاف نہیں بلکہ ان اصولوں کے لیے ہے جن میں آزادی، انصاف اور انسانی وقار شامل ہیں۔

چین اور کینیڈا تعلقات کے تناظر میں معاملہ

ژانگ کا معاملہ چین اور کینیڈا کے درمیان پہلے سے موجود حساس تعلقات کے پس منظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سفارتی معاملات اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر کئی برسوں سے اختلافات موجود ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے معاملات مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، کیونکہ کینیڈا ایک طرف انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی حمایت کرتا ہے جبکہ دوسری جانب چین کے ساتھ سفارتی اور معاشی تعلقات بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

ژانگ ژینیان کا کہنا ہے کہ وہ کینیڈا میں رہتے ہوئے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور چین میں مبینہ جبر کے خلاف اپنی مہم جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق آزادی اظہار ایک ایسا حق ہے جس کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ضروری ہے۔

ہمیں فالو کریں