اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) واٹس ایپ نے آئی فون صارفین کے لیے اپنے پلیٹ فارم پر تھرڈ پارٹی اے آئی ایجنٹس اور دیگر مطابقت رکھنے والے بوٹس سے براہ راست گفتگو کی نئی سہولت متعارف کرانے کا عمل شروع کردیا ہے۔
ابتدائی طور پر یہ فیچر محدود صارفین کو فراہم کیا جارہا ہے، تاہم اس کی مدد سے واٹس ایپ کے اندر بیرونی سروسز سے منسلک ایجنٹس کو عام کانٹیکٹ کی طرح استعمال کرنا ممکن ہوگا۔
پانچ ایجنٹس تک رسائی
نئے فیچر کے تحت ایک واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ساتھ زیادہ سے زیادہ پانچ تھرڈ پارٹی ایجنٹس منسلک کیے جاسکتے ہیں۔ صارف ایپ کی سیٹنگز میں جاکر ایجنٹ شامل کرسکے گا اور اس کی شناخت کے لیے مخصوص نام اور پروفائل تصویر بھی مقرر کرسکے گا۔
یہ نظام ایسے صارفین کے لیے تیار کیا گیا ہے جو مختلف کاموں میں مصنوعی ذہانت یا دوسرے خودکار معاونین سے مدد لینا چاہتے ہیں، لیکن اس مقصد کے لیے الگ پلیٹ فارم یا ایپ کھولنے کے بجائے واٹس ایپ کے اندر ہی گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں۔
ایجنٹ کیسے منسلک ہوگا؟
WABetaInfo کے مطابق آئی او ایس کے بیٹا ورژن میں اس فیچر کی آزمائش کے دوران ایجنٹ کو اکاؤنٹ سے منسلک کرنے کے لیے مخصوص طریقہ کار فراہم کیا گیا ہے۔ صارف کی جانب سے ایجنٹ کی بنیادی تفصیلات طے کرنے کے بعد واٹس ایپ ایک API کی فراہم کرے گا جسے متعلقہ تھرڈ پارٹی سروس میں استعمال کرکے ایجنٹ کو چیٹ سسٹم سے منسلک کیا جاسکے گا۔
واٹس ایپ نے اس حوالے سے ایک اہم احتیاط بھی واضح کی ہے کہ فراہم کردہ API کی کوڈ کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر نہیں کی جانی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کوڈ کے ذریعے منسلک ایجنٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جاسکتا ہے۔
عام کانٹیکٹ کی طرح چیٹ
ایجنٹ کے کامیابی سے منسلک ہونے کے بعد وہ صارف کی چیٹ لسٹ میں ایک عام واٹس ایپ کانٹیکٹ کی طرح دکھائی دے گا۔ صارف اس کے ساتھ براہ راست گفتگو کرسکے گا اور اپنی ضرورت کے مطابق مختلف کام لے سکے گا۔
مثلاً کسی تحریر کا ابتدائی ڈرافٹ تیار کرانا، اہم معلومات کو نوٹس کی شکل میں محفوظ کرنے میں مدد لینا یا کسی مخصوص کام کے لیے ذاتی ڈیجیٹل معاون کے طور پر ایجنٹ استعمال کرنا ممکن ہوگا۔
یہ سہولت صرف مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس تک محدود نہیں رکھی گئی۔ واٹس ایپ کے مطابق اس نظام کے ساتھ دیگر ایسے بوٹس بھی منسلک کیے جاسکیں گے جو پلیٹ فارم کے مقررہ تقاضوں سے مطابقت رکھتے ہوں۔
ذاتی چیٹس تک براہ راست رسائی نہیں
نئے فیچر میں صارف کی پرائیویسی کو مدنظر رکھتے ہوئے تھرڈ پارٹی ایجنٹس کے لیے رسائی محدود رکھی گئی ہے۔ ایجنٹ صارف کی تمام ذاتی چیٹس، رابطوں یا میڈیا فائلز کو خود سے نہیں دیکھ سکے گا۔
اس کے بجائے ایجنٹ کو صرف وہ پیغامات دستیاب ہوں گے جو صارف خود اس کے ساتھ شیئر کرے گا۔ اس طرح عام واٹس ایپ گفتگو اور تھرڈ پارٹی ایجنٹ کے درمیان ایک واضح حد قائم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ پہلو ان صارفین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جو مصنوعی ذہانت یا خودکار سروسز استعمال کرتے ہوئے اپنی ذاتی معلومات اور نجی گفتگو کو الگ رکھنا چاہتے ہیں۔
اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا فرق
اگرچہ واٹس ایپ کی عام ذاتی چیٹس اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی سہولت رکھتی ہیں، تاہم تھرڈ پارٹی ایجنٹس کے ساتھ ہونے والی گفتگو اسی نوعیت کی اینکرپشن کے تحت نہیں ہوگی۔
WABetaInfo کے مطابق ایسے پیغامات کو متعلقہ ایجنٹ کے ڈیولپر کے سسٹم تک پہنچانے کے لیے میٹا کی محفوظ سروس استعمال کی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارف کو تھرڈ پارٹی ایجنٹ کے ساتھ گفتگو کرتے وقت عام ذاتی واٹس ایپ چیٹس کے مقابلے میں ڈیٹا کے بہاؤ کے مختلف طریقہ کار کو مدنظر رکھنا ہوگا۔
اسی لیے ایسے ایجنٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ حساس یا انتہائی نجی معلومات شیئر کرنے سے قبل متعلقہ تھرڈ پارٹی سروس کی پالیسیوں اور ڈیٹا کے استعمال کے طریقہ کار کو سمجھیں۔
فیچر ابھی محدود صارفین تک
فی الحال یہ سہولت تمام آئی فون صارفین کے لیے دستیاب نہیں کی گئی۔ واٹس ایپ اسے مرحلہ وار محدود تعداد میں صارفین تک پہنچا رہا ہے اور ابتدائی رول آؤٹ منتخب ممالک تک محدود ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئی او ایس کے لیے اس فیچر کی آزمائش WhatsApp beta for iOS 26.37.10.70 میں کی جارہی ہے۔ اس مرحلے پر کمپنی صارفین کے ردعمل اور فیچر کی کارکردگی کا جائزہ لے رہی ہے، جس کے بعد اس کی دستیابی مزید صارفین تک بڑھائے جانے کا امکان ہے۔
واٹس ایپ کی جانب سے تھرڈ پارٹی ایجنٹس کو چیٹ لسٹ کا حصہ بنانے کا اقدام میسجنگ پلیٹ فارم کو محض رابطوں اور گفتگو کی ایپ سے آگے بڑھا کر مختلف ڈیجیٹل خدمات کے استعمال کا مرکز بنانے کی سمت ایک اہم قدم سمجھا جارہا ہے۔
آنے والے وقت میں اگر یہ سہولت وسیع پیمانے پر دستیاب ہوتی ہے تو صارفین کو الگ الگ ایپلی کیشنز کھولنے کے بجائے واٹس ایپ کے اندر ہی متعدد خودکار خدمات اور ڈیجیٹل معاونین تک رسائی مل سکے گی۔
