اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) درد، بخار یا کسی بھی بیماری کی صورت میں فوری طور پر دوا استعمال کرنے کا رجحان عام ہوتا جارہا ہے، تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ درد کش ادویات اور اینٹی بائیوٹکس کا خود سے، بار بار یا ضرورت سے زیادہ استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
خاص طور پر بعض حالات میں درد کش ادویات گردوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں، جبکہ اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال سے جراثیم میں ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ہر بیماری میں اینٹی بائیوٹک ضروری نہیں
ماہرین کے مطابق عام لوگوں میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ بیماری، بخار یا انفیکشن کی صورت میں اینٹی بائیوٹک لینا علاج کا لازمی حصہ ہے، حالانکہ ہر بیماری یا انفیکشن میں اس نوعیت کی دوا مؤثر نہیں ہوتی۔
خصوصاً بہت سی عام وائرل بیماریاں ایسی ہیں جن کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایسی صورتحال میں ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر اینٹی بائیوٹک استعمال کرنا بیماری کے علاج میں فائدہ پہنچانے کے بجائے مستقبل میں صحت سے متعلق ایک بڑا مسئلہ پیدا کرسکتا ہے۔
اینٹی بائیوٹکس بنیادی طور پر مخصوص بیکٹیریا سے پیدا ہونے والے انفیکشنز کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں۔ اس لیے صرف علامات کی بنیاد پر خود سے دوا کا انتخاب کرنے کے بجائے طبی ماہر سے مشورہ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
بچی ہوئی دوا دوبارہ استعمال نہ کریں
ماہرین نے گھر میں پہلے سے موجود یا کسی سابقہ بیماری کے دوران بچ جانے والی اینٹی بائیوٹکس کو نئی بیماری کی صورت میں خود سے دوبارہ استعمال کرنے سے بھی خبردار کیا ہے۔
ایک بیماری میں تجویز کی گئی دوا ضروری نہیں کہ دوسری بیماری یا دوسرے مریض کے لیے بھی مناسب ہو۔ انفیکشن کی نوعیت، مریض کی عمر، طبی تاریخ، دیگر ادویات اور جسمانی حالت سمیت مختلف عوامل کو مدنظر رکھ کر دوا کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
اسی طرح کسی دوسرے شخص کو اپنی تجویز کردہ اینٹی بائیوٹک استعمال کرنے کا مشورہ دینا بھی مناسب نہیں، کیونکہ بظاہر ملتی جلتی علامات کے باوجود دونوں افراد میں بیماری کی وجہ مختلف ہوسکتی ہے۔
درد کش ادویات میں احتیاط ضروری
درد سے فوری نجات کے لیے استعمال ہونے والی ادویات بھی ماہرین کی توجہ کا مرکز ہیں۔ تحقیق سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق بعض درد کش ادویات کا غیر ضروری یا طویل عرصے تک استعمال گردوں کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ درد کش دوا کا استعمال ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے اور اسے مسلسل یا زیادہ مقدار میں لینے سے گریز کرنا چاہیے۔ کسی بھی دوا کی خوراک اور استعمال کی مدت مریض کی صورتحال کے مطابق طے کی جانی چاہیے۔
خصوصاً ایسے افراد جو پہلے ہی کسی بیماری میں مبتلا ہوں یا متعدد ادویات استعمال کررہے ہوں، ان کے لیے خود سے درد کش دوا لینا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔
گردوں کے مریض زیادہ محتاط رہیں
جن افراد کو پہلے سے گردوں کا مرض لاحق ہے، انہیں درد کش ادویات سمیت مختلف دواؤں کے استعمال میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ افراد جو مناسب مقدار میں پانی نہیں پیتے یا دل کے امراض سمیت دیگر طبی مسائل کا شکار ہیں، انہیں بھی دوا لینے سے قبل طبی مشورہ کرنا چاہیے۔
گردے جسم سے فاضل مادوں کے اخراج سمیت جسم کے کئی اہم افعال میں کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان پر غیر ضروری ادویات کا بوجھ ڈالنے سے گریز ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق کسی دوا کا استعمال صرف اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ماضی میں کسی بیماری کے دوران فائدہ مند ثابت ہوئی تھی۔ موجودہ بیماری اور مریض کی موجودہ صحت کی صورتحال کے مطابق دوا کا فیصلہ زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔
اینٹی بائیوٹک مزاحمت کا خطرہ
اینٹی بائیوٹکس کے غیر ضروری استعمال کا ایک اہم نقصان جراثیم میں ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا ہونا ہے۔ جب اینٹی بائیوٹکس ضرورت کے بغیر یا غلط طریقے سے استعمال کی جاتی ہیں تو بعض جراثیم ان ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کرسکتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں مستقبل میں ہونے والے بعض بیکٹیریا سے پیدا ہونے والے انفیکشنز کا علاج مشکل ہوسکتا ہے اور مریض کو زیادہ پیچیدہ طبی نگہداشت یا مختلف ادویات کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
اسی وجہ سے ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس کو عام بخار، نزلہ، زکام یا ہر قسم کی بیماری کی دوا نہ سمجھا جائے۔ ان کا استعمال صرف اس وقت کیا جائے جب طبی ضرورت موجود ہو اور ڈاکٹر اس کی ہدایت کرے۔
ڈاکٹر بھی کم سے کم مؤثر خوراک تجویز کریں
محققین نے طبی ماہرین کے لیے بھی یہ تجویز پیش کی ہے کہ درد کش ادویات ضرورت کے مطابق کم سے کم مؤثر مقدار میں اور مناسب ترین مختصر مدت کے لیے تجویز کی جائیں۔
طویل عرصے تک دوا کا استعمال یا ضرورت سے زیادہ خوراک مریض کے لیے ممکنہ نقصانات میں اضافہ کرسکتی ہے۔ اس لیے علاج کے دوران دوا کے فوائد کے ساتھ اس کے ممکنہ مضر اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اسی طرح اینٹی بائیوٹکس تجویز کرتے وقت بھی اس بات کا تعین کیا جانا چاہیے کہ واقعی مریض کو اس دوا کی ضرورت ہے یا نہیں۔ غیر ضروری نسخے نہ صرف انفرادی مریض بلکہ مجموعی طور پر معاشرے میں اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے مسئلے کو بڑھا سکتے ہیں۔
خود علاج کے بجائے طبی مشورہ
ماہرین کا بنیادی مشورہ یہی ہے کہ دوا کو معمول کی چیز سمجھ کر خود سے استعمال کرنے کے رجحان میں کمی لائی جائے۔ کسی بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر مناسب تشخیص کے بعد علاج کا فیصلہ زیادہ محفوظ راستہ ہے۔
خاص طور پر بار بار درد، مسلسل بخار، انفیکشن کی علامات یا کسی پرانی بیماری کے ساتھ نئی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں صرف گھر میں موجود دوا استعمال کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق ادویات کا بنیادی مقصد بیماری کا علاج یا علامات میں کمی لانا ہے، تاہم غلط دوا، غیر ضروری خوراک یا طویل عرصے تک استعمال فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے درد کش ادویات اور اینٹی بائیوٹکس کو ہر بیماری کا فوری حل سمجھنے کے بجائے طبی ضرورت، درست خوراک اور مناسب مدت کے اصول کے تحت استعمال کرنا صحت کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔
