پروازیں بند کی گئیں تو خطے میں کسی کے طیارے نہیں اڑنے دینگے ،ایران کی دھمکی

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  ایران نے اپنی فضائی سروسز اور ایئرپورٹس پر پابندیوں کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی پروازوں کو خطے کے ممالک میں فضائی اور ہوائی اڈوں کی سہولیات سے محروم کیا گیا تو پھر علاقائی سطح پر کسی دوسرے ملک کی فضائی سرگرمیاں بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔

ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ فضائی سفر کے معاملے میں امتیازی پالیسی قبول نہیں کی جائے گی اور ایران کے خلاف اقدامات کرنے والے ممالک کے رویے کو ایرانی عوام فراموش نہیں کریں گے۔

ایران کا سخت مؤقف

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محمد مخبر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ خطے میں فضائی سفر یا تو سب کے لیے ممکن ہونا چاہیے یا پھر کسی کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کو اپنی پروازیں چلانے اور دوسرے ممالک کے ہوائی اڈوں پر لینڈنگ، ٹیک آف اور دیگر ضروری فضائی سہولیات حاصل کرنے سے روکا گیا تو خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی یہی سہولت برقرار نہیں رہ سکے گی۔

محمد مخبر کے بیان کے مطابق ایران اس معاملے کو محض تجارتی یا فضائی آپریشن کا مسئلہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایرانی شہری ہوا بازی کے خلاف امتیازی اقدامات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔

امریکا کی پابندیاں

ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا نے ایرانی ہوا بازی کے شعبے پر پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا ہے۔ امریکی اقدامات کے تحت ایرانی ایوی ایشن سے وابستہ متعدد اداروں اور 27 ایرانی ایئرلائنز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

امریکا نے اس کے ساتھ ساتھ ان ممالک اور کمپنیوں کے لیے بھی سخت پالیسی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے جو ایرانی ایئرلائنز کو مختلف فضائی اور زمینی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔

امریکی مؤقف کے مطابق ایرانی کمرشل ایوی ایشن کے ذریعے مبینہ طور پر اسلحہ، اہلکاروں اور دیگر سامان کی منتقلی کی جاتی ہے، جس کی بنیاد پر ایرانی فضائی صنعت سے وابستہ اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

ایران ان الزامات اور پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اپنی شہری ہوا بازی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیتا ہے۔

غیر ملکی کمپنیوں کیلئے بھی خطرہ

امریکا نے ایرانی ایئرلائنز کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والی غیر ملکی کمپنیوں کو بھی پابندیوں کے دائرے میں لانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس میں ایرانی فضائی کمپنیوں کو ایندھن فراہم کرنے، لینڈنگ اور گراؤنڈ ہینڈلنگ کی سہولت دینے سمیت دیگر سفری خدمات فراہم کرنے والے ادارے شامل ہوسکتے ہیں۔

اس امریکی پالیسی کے باعث ایرانی فضائی کمپنیوں کے لیے بیرون ملک آپریشن جاری رکھنا مزید مشکل ہوگیا ہے، جبکہ بعض ممالک میں ایرانی پروازوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ شہری فضائی رابطوں کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور مسافروں کو متاثر کرنے والے ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔

خلیجی ممالک میں پروازیں متاثر

امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد خطے کے بعض ممالک نے ایرانی ایئرلائنز کے حوالے سے اپنی فضائی پالیسی میں تبدیلی کی ہے۔ متعدد ایرانی پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں، جس سے ایران سے بیرون ملک سفر کرنے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

تازہ پیش رفت میں عراق کے نجف انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے ایران سے آنے اور ایران جانے والی تمام پروازیں 25 ستمبر کو رات 2 بجے سے غیر معینہ مدت تک معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نجف ایئرپورٹ کا فیصلہ ایران کے لیے ایک اہم فضائی رابطے میں رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا ہے، کیونکہ عراق ایرانی مسافروں اور مذہبی و تجارتی سفر کے حوالے سے ایک اہم علاقائی منزل سمجھا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں بھی پابندی

اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے بھی ایرانی ایئرلائنز کی ملک میں آمد اور وہاں سے روانگی کی پروازیں تاحکم ثانی معطل کردی تھیں۔ خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے بھی ایرانی پروازوں کے حوالے سے مختلف پابندیوں یا معطلی کے اقدامات سامنے آچکے ہیں۔

فضائی رابطوں میں کمی کے نتیجے میں ایران سے بیرون ملک جانے والے مسافروں کو متبادل راستوں کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔ بعض مسافر ترکی، آرمینیا اور دیگر ممالک کے ذریعے زمینی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

فضائی سفر کا بحران

ایرانی ایئرلائنز پر پابندیوں اور متعدد ممالک کی جانب سے پروازیں معطل کیے جانے سے ایران کے بین الاقوامی فضائی رابطوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ براہ راست پروازوں میں کمی سے مسافروں کے سفری اخراجات اور وقت میں اضافے کے ساتھ فضائی کمپنیوں کے آپریشنز بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

ایران کی جانب سے تازہ دھمکی کے بعد معاملہ محض ایرانی ایئرلائنز کی پروازوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے ممکنہ اثرات پورے خطے کے فضائی نظام تک پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

محمد مخبر نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف دشمنانہ پالیسی اختیار کرنے والے ممالک کے اقدامات کو ایرانی عوام نظر انداز نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق فضائی سفر کے حوالے سے ایران کا مؤقف واضح ہے اور کسی بھی ملک کو ایران کے خلاف امتیازی اقدامات کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ایران کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں پہلے ہی سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی موجود ہے اور ایران و امریکا کے درمیان تعلقات میں بھی شدید تناؤ برقرار ہے۔ اگر فضائی پابندیوں کا سلسلہ مزید وسیع ہوتا ہے تو اس کے اثرات مسافر پروازوں، علاقائی فضائی رابطوں اور ایئرلائنز کے آپریشنز پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ہمیں فالو کریں