اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز) کینیڈا میں فروخت ہونے والی ڈریسکولز کی بیریز کے حوالے سے ایک سابق ملازم کی جانب سے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں دائر کیے گئے مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2022 سے 2024 کے دوران کمپنی کی کینیڈا بھیجی جانے والی تقریباً نصف کھیپ میں ایسے کیمیکلز اور کیڑے مار ادویات کی باقیات موجود تھیں جو کینیڈا میں مقررہ حفاظتی حد سے زیادہ تھیں۔
سابق ملازم ڈیوڈ ہاراڈا نے ڈریسکولز کے خلاف مبینہ انتقامی کارروائی کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ وہ کمپنی میں امریکا اور کینیڈا کے لیے فوڈ سیفٹی اور ریگولیٹری کمپلائنس کے مینیجر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیریز میں کیڑے مار ادویات کے استعمال اور حفاظتی ضوابط سے متعلق مسائل دیکھنے کے بعد اپنی تشویش اعلیٰ حکام تک پہنچائی لیکن انہیں معاملہ خود سنبھالنے کے لیے کہا گیا۔
نصف کھیپ میں مقررہ حد سے زیادہ کیمیکل کا دعویٰ
ڈیوڈ ہاراڈا کے مطابق کمپنی کے اپنے اندازوں کی بنیاد پر 2022 سے 2024 کے دوران کینیڈا بھیجی جانے والی تقریباً 50 فیصد کھیپ میں ایسی بیریز شامل تھیں جن میں کیمیکلز کی مقدار کینیڈا میں مقررہ قانونی حد سے زیادہ تھی۔
انہوں نے بتایا کہ جب انہیں یہ مسئلہ بار بار نظر آنے لگا تو ان کے لیے خاموش رہنا مشکل ہوگیا۔ ہاراڈا کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2022 میں کیڑے مار ادویات کے ضرورت سے زیادہ استعمال اور بیریز کی حفاظت سے متعلق مسائل محسوس کیے اور فوری طور پر اپنے افسران کو آگاہ کیا۔
مقدمے میں ہاراڈا نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں خدشہ تھا کہ کمپنی کے اندر موجود حفاظتی اور ریگولیٹری مسائل کا ذمہ دار آخرکار انہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے انہیں قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہو۔
کینیڈین ادارے کی بھی زائد کیمیکل کی تصدیق
کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی یعنی سی ایف آئی اے نے بھی تصدیق کی ہے کہ 2022 سے 2024 کے دوران ملک بھر کی گروسری اسٹورز میں فروخت ہونے والی ڈریسکولز بیریز کے کئی معائنے کیے گئے تھے۔
ان معائنوں کے دوران بعض نمونوں میں ایسے کیمیکلز کی مقدار مقررہ قانونی حد سے زیادہ پائی گئی۔
سی ایف آئی اے کے مطابق ان کیمیکلز میں بائفن تھرین، آئی پروڈیون اور کیپٹن شامل تھے۔ یہ کیمیکلز مختلف اقسام کی کیڑے مار اور پھپھوندی کش ادویات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
تاہم سی ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان معائنوں کے نتیجے میں بیریز کی واپسی کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔ بعض معاملات میں اصلاحی کارروائی کی گئی اور تحقیقات مکمل کرکے بند کردی گئیں۔
ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ مختلف تحقیقات مختلف مصنوعات، کیڑے مار ادویات کی باقیات، درآمد کنندگان اور مقامات سے متعلق تھیں۔ اس لیے صرف ڈریسکولز برانڈ کا نام موجود ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ تمام خلاف ورزیوں کا تعلق کسی ایک پیدا کنندہ یا ایک ہی ذریعے سے تھا۔
بیماری کی شکایات پر بھی تحقیقات
سی ایف آئی اے کے مطابق بعض تحقیقات ان رپورٹس کے بعد بھی شروع ہوئیں جن میں ڈریسکولز کی بلیو بیریز کھانے کے بعد طبیعت خراب ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ کچھ صارفین نے بیریز میں کیمیکل جیسا ذائقہ یا بو محسوس ہونے کی شکایات بھی کیں۔
تاہم کینیڈین ادارے کے مطابق ان بیماریوں کو بیریز کے استعمال سے براہ راست اور حتمی طور پر منسلک نہیں کیا جا سکا۔
سی ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاملے میں کارروائی کا فیصلہ صحت کے ممکنہ خطرے کی شدت کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ اگر ہیلتھ کینیڈا کسی خوراک کو ناقابل قبول صحت کے خطرے کا حامل قرار دے تو اسے واپس منگوانے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے
ایک بار کی زیادتی لازماً بیماری کا سبب نہیں
میک گل یونیورسٹی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ایگریکلچرل کیمسٹری کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اسٹیفن بایین کے مطابق بیریز میں کیمیائی باقیات کا قانونی حد سے زیادہ پایا جانا کوئی بالکل غیر معمولی بات نہیں لیکن اس صورتحال کو کم کرنا ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی ایک موقع پر مقررہ حد سے زیادہ باقیات کا ملنا لازماً صارف کی صحت کو نقصان پہنچنے کا مطلب نہیں ہوتا۔ تاہم اگر ایسا مسلسل ہونے لگے تو معاملہ زیادہ توجہ کا متقاضی بن جاتا ہے۔
مونٹریال سے تعلق رکھنے والے ٹاکسی کولوجسٹ ڈینیئل گرین نے بھی کہا کہ سی ایف آئی اے کی جانب سے جانچ کی گئی بیریز میں کیمیکلز کی جو مقدار سامنے آئی وہ چند بیریز کھانے سے کسی شخص کو بیمار کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔
ان کے مطابق بعض مثالوں میں نقصان دہ اثر پیدا کرنے کے لیے بہت زیادہ مقدار میں بیریز کھانا پڑتیں۔
تاہم گرین نے اس معاملے کو صرف ایک خوراک تک محدود رکھنے کے بجائے مجموعی کیمیائی اثرات کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ان کے مطابق انسان مختلف ذرائع سے وقت کے ساتھ متعدد کیمیکلز کے سامنے آتا ہے اور طویل مدت میں مجموعی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
سابق ملازم نے نگرانی کے نظام پر سوال اٹھا دیا
ڈیوڈ ہاراڈا کا الزام ہے کہ ڈریسکولز نے 2022 میں کینیڈا کے لیے خوراک کی حفاظت اور ضابطوں کی پابندی سے متعلق ایک نگرانی کا نظام ختم کردیا تھا۔
ان کے مطابق اس نظام کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ بیریز پر آخری مرتبہ کیڑے مار ادویات کے استعمال اور پھل توڑنے کے درمیان مناسب وقفہ موجود ہو۔
