اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایران کے پاسداران انقلاب کے سیاسی شعبے کے نائب سربراہ جنرل یداللہ جوانی نے عرب ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی فوجی دستوں اور اڈوں کو ختم کریں، بصورت دیگر انہیں ایران کی جانب سے سخت اور ’کچل دینے والے‘ فوجی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جنرل یداللہ جوانی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کی سکیورٹی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار نے عرب ممالک کو ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں میں واشنگٹن کا ساتھ دینے سے بھی خبردار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اہلکاروں کو اپنی سلامتی کیلئے براہ راست خطرہ تصور کرتا ہے۔
کویت، بحرین اور اردن کا نام
جنرل یداللہ جوانی نے خاص طور پر کویت، بحرین اور اردن کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اگر ان ممالک میں امریکی فوجی موجودگی برقرار رہی تو یہ ممالک ایران کی جوابی کارروائی کے ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔
انہوں نے عرب ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین سے امریکی فوجی اڈے اور اہلکار ہٹا دیں تاکہ انہیں ایران کے ممکنہ ردعمل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق اگر امریکی فوجی موجودگی ختم نہیں کی گئی تو ایران اپنی سلامتی کے دفاع کیلئے سخت فوجی اقدامات کرسکتا ہے۔
امریکی اڈوں کو خطرہ
ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے دی جانے والی یہ دھمکی خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کیلئے ایک نئے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔ امریکا کے مشرق وسطیٰ میں کئی ممالک کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی معاہدے ہیں جبکہ مختلف ممالک میں امریکی فوجی اہلکار، اڈے اور دیگر تنصیبات موجود ہیں۔
بحرین میں امریکی بحریہ کی اہم تنصیب موجود ہے جبکہ کویت بھی خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں اور دفاعی حکمت عملی کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اردن کے ساتھ بھی امریکا کے قریبی دفاعی اور سکیورٹی تعلقات ہیں۔
خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
ایرانی عہدیدار کی جانب سے تین عرب ممالک کو براہ راست خبردار کیے جانے کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
اگر ایران نے ان ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو اس کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ میزبان ممالک بھی براہ راست تنازع کا حصہ بن سکتے ہیں۔
اس صورتحال میں کویت، بحرین اور اردن کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے، کیونکہ ایک طرف ان کے امریکا کے ساتھ دفاعی تعلقات ہیں جبکہ دوسری جانب ایران نے واضح الفاظ میں امریکی فوجی موجودگی کو اپنے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔
جنگ پھیلنے کا خطرہ
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے عہدیدار کا بیان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کو مزید وسیع ہونے سے روکنے کی کوششوں کیلئے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
اگر امریکی فوجی اڈوں پر حملے ہوتے ہیں اور ان کے نتیجے میں متعلقہ عرب ممالک کی سرزمین متاثر ہوتی ہے تو امریکا کی جانب سے بھی جوابی کارروائی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے، جس سے موجودہ کشیدگی مزید سنگین صورت اختیار کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :چین کا امریکہ ایران معاہدے پر دستخط خیر مقدم ، مثبت پیشرف قرار دیدیا
خطے کے کئی ممالک پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی محاذ آرائی کے اثرات سے پریشان ہیں۔ ایسے میں ایران کی جانب سے امریکی فوجی موجودگی رکھنے والے ممالک کو براہ راست خبردار کرنا صورتحال کو مزید حساس بنا سکتا ہے۔
ایرانی عہدیدار کی دھمکی سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ جاری محاذ آرائی کو صرف اپنی سرزمین تک محدود رکھنے کے بجائے خطے میں موجود امریکی فوجی انفراسٹرکچر کو بھی اپنے ممکنہ جوابی اقدامات کے دائرے میں شامل سمجھتا ہے۔
