اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ترک صدر رجب طیب اردوان نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو اسلامی دنیا کے لیے اہم پیغام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے مثبت اثرات آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔
مثبت پیش رفت جاری
ترک صدر رجب طیب اردوان نے پیر کو ترکیہ کے صوبے سامسن میں نوجوانوں کے لیے منعقدہ خصوصی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مل کر ایک اہم قدم اٹھایا ہے اور اس حوالے سے مثبت پیش رفت جاری ہے۔
رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک کے درمیان تعاون کے نتیجے میں خطے میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ اس عمل میں کامیاب ہوں گے اور مشترکہ کوششیں مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گی۔
اسلامی دنیا کیلئے پیغام
ترک صدر نے مکہ میں ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف تین ممالک کے درمیان تعاون کا معاملہ نہیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک پیغام بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے باہمی تعاون اور یکجہتی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا ایک ساتھ آگے بڑھنا اسلامی دنیا میں تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کے تصور کو تقویت دے سکتا ہے۔
خطے کی صورتحال پر نظر
رجب طیب اردوان نے خلیج اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ آبنائے ہرمز میں ہونے والی پیش رفت کو انتہائی قریب سے دیکھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :مکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی سہ ملکی کمیٹی کا آج استنبول میں اجلاس
ترک صدر کے مطابق صورتحال صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں بلکہ خلیج کے مختلف حصوں میں بھی سنجیدہ نوعیت کی مشکلات موجود ہیں۔ ان حالات کے باعث خطے کے امن، استحکام اور سلامتی کو درپیش خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
ترک صدر نے اسی تناظر میں موجودہ صورتحال کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت پر زور دیا اور واضح کیا کہ خلیج میں پیدا ہونے والی مشکلات کو معمولی معاملہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
ترکیہ کا کردار
رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ اسلامی دنیا کو درپیش مشکلات پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ خطے میں جاری مسائل کے حل اور امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی کوشش ہے کہ خطے کو درپیش موجودہ چیلنجز سے جلد از جلد نمٹا جائے اور کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ممالک کے درمیان رابطے، تعاون اور مشترکہ اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔
مشترکہ کوششوں پر زور
ترک صدر نے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ ترکیہ کے تعاون کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک نے ایک ساتھ قدم اٹھایا ہے اور اس کے نتائج کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آرہی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ کوششوں کو کامیابی ملے گی اور اس تعاون کے مثبت اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اسلامی دنیا کے وسیع تر مفادات پر بھی اثرانداز ہوں گے۔
معمولی معاملہ نہیں
رجب طیب اردوان نے خلیج میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاملے کو معمولی نہیں سمجھا جاسکتا۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں خطے کے مختلف حصوں میں سامنے آنے والے مسائل پر گہری نظر رکھنا اور ان کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور اسلامی دنیا کو درپیش مشکلات کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
آگے بڑھنے کا عزم
ترک صدر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انقرہ سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ دفاعی اور علاقائی تعاون کو اہم سمجھتا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے اردوان کا مثبت مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ ترکیہ اس مقصد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ خطے میں پیدا ہونے والی مشکلات کو کم کیا جاسکے اور اسلامی دنیا کے لیے امن و استحکام کی راہ ہموار ہو۔
