البرٹا میں بڑا سیاسی اپ سیٹ، این ڈی پی نے یو سی پی کی محفوظ نشست چھین لی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں اپوزیشن جماعت نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) نے حکمران یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی (یو سی پی) کو بڑا سیاسی جھٹکا دے دیا۔ پیر کی شب ہونے والے کیلگری شاو کے ضمنی انتخاب میں این ڈی پی کے امیدوار کائل کیمبل نے یو سی پی کے امیدوار مائیک ڈیری کو 500 سے زائد ووٹوں سے شکست دے کر وہ نشست جیت لی جسے حکمران جماعت کے پاس برقرار رہنے کی توقع کی جا رہی تھی۔

یہ نتیجہ البرٹا کی سیاست میں خاص اہمیت اختیار کرگیا ہے، کیونکہ کیلگری شاو کی نشست 2019 سے یو سی پی کے پاس تھی اور اسے پارٹی کی مضبوط نشستوں میں شمار کیا جاتا تھا۔

یو سی پی کو بڑا دھچکا

کیلگری شاو کے حلقے میں شاونسی، سمرسیٹ، سلویراڈو، یارک ول، بیلمونٹ، پائن کریک، چیپریل، والڈن، وولف وِلو اور لیگیسی کے علاقے شامل ہیں۔

یہ حلقہ مئی سے صوبائی اسمبلی میں نمائندگی سے محروم تھا، جب سابق یو سی پی کابینہ وزیر ربیکا شولز نے اپنی نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

ربیکا شولز نے 2019 میں اس حلقے سے واضح برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی جبکہ 2023 کے صوبائی انتخابات میں بھی انہوں نے 3 ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے نشست برقرار رکھی تھی۔ ایسے میں ضمنی انتخاب میں این ڈی پی کی کامیابی کو ایک غیر معمولی سیاسی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

کائل کیمبل کی کامیابی

این ڈی پی امیدوار کائل کیمبل نے انتخابی مہم کے دوران خاص طور پر صحت کے شعبے سے متعلق وعدوں کو اپنی مہم کا مرکز بنایا تھا۔ ان کی جانب سے صحت عامہ میں بہتری اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے معاملات پر زور دیا گیا۔

دوسری جانب یو سی پی امیدوار مائیک ڈیری کا تعلق تیل اور گیس کے شعبے سے ہے۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں مہنگائی اور عوامی اخراجات، تعلیم، صحت اور حکومتی شفافیت کو اہم موضوعات کے طور پر پیش کیا۔

نتیجہ دیر سے سامنے آیا

کائل کیمبل کی کامیابی کا حتمی فیصلہ فوری طور پر سامنے نہیں آسکا۔ ابتدائی ووٹوں کی گنتی کے بعد مقابلہ انتہائی قریب تھا، تاہم رات ساڑھے 10 بجے کے بعد ایڈوانس ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے پر این ڈی پی امیدوار کی کامیابی واضح ہوئی۔

کیمپبل نے مائیک ڈیری کو 500 سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی، جس کے بعد این ڈی پی قیادت نے اسے صوبائی سیاست میں اہم کامیابی قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں :البرٹا میں کینیڈا سے علیحدگی کا ریفرنڈم، مارک کارنی کی موجودگی نے مہم میں نئی بحث چھیڑ دی

نینشی کا اہم بیان

البرٹا این ڈی پی کے سربراہ ناہید نینشی نے حتمی نتیجہ سامنے آنے سے پہلے ہی قریبی مقابلے کو اپنی جماعت کے لیے کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیلگری میں اب کوئی بھی قدامت پسند نشست مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھی جا سکتی۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ووٹوں کی ابتدائی گنتی میں دونوں بڑی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ جاری تھا۔

سیاسی ماہرین کی نظر

ماؤنٹ رائل یونیورسٹی کے سیاسیات کے ماہر کیتھ براؤنزی کے مطابق کیلگری شاو کا ضمنی انتخاب ایک اہم سیاسی پیمانہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ عمومی طور پر یو سی پی کے نشست برقرار رکھنے کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم واضح اور فیصلہ کن کامیابی نہ ملنے کی صورت میں بھی یہ عوامی رجحانات میں تبدیلی کی علامت ہوسکتی تھی۔

اب این ڈی پی کی کامیابی نے البرٹا میں حکمران جماعت کی مقبولیت اور عوامی حمایت کے استحکام سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ڈینیئل اسمتھ کا ردعمل

البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے نتائج سامنے آنے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر کائل کیمبل کو کامیابی پر مبارک باد دی اور یو سی پی امیدوار مائیک ڈیری کا انتخابی مہم میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

اسمتھ نے کہا کہ کیلگری شاو کے ووٹرز نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور ان کی یو سی پی حکومت حلقے کے نئے رکن اسمبلی کے ساتھ تعمیری انداز میں کام کرے گی تاکہ علاقے کی ضروریات پوری کی جاسکیں۔

ریفرنڈم سے پہلے اہم نتیجہ

کیلگری شاو کا ضمنی انتخاب ایسے وقت میں ہوا ہے جب البرٹا میں 19 اکتوبر کو کینیڈا میں برقرار رہنے سے متعلق ریفرنڈم بھی ہونے والا ہے۔ اسی وجہ سے ضمنی انتخاب کے نتائج کو صوبے کے سیاسی ماحول اور عوامی رجحانات کے تناظر میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

این ڈی پی کی کامیابی نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا کیلگری میں روایتی طور پر مضبوط قدامت پسند حمایت میں تبدیلی آرہی ہے اور کیا اس کے اثرات آئندہ سیاسی فیصلوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ووٹر ٹرن آؤٹ

ضمنی انتخاب سے قبل ایڈوانس ووٹنگ میں مجموعی طور پر 6 ہزار 955 ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جو اہل ووٹرز کا تقریباً 16.4 فیصد بنتا ہے۔

یہ شرح 2023 کے صوبائی انتخابات کے مقابلے میں کم رہی، جب ایڈوانس ووٹنگ کے دوران 9 ہزار 798 ووٹ ڈالے گئے تھے، جو اس وقت اہل ووٹرز کا 24.8 فیصد تھے۔

کیلگری شاو میں این ڈی پی کی یہ کامیابی نہ صرف یو سی پی کے لیے ایک اہم نقصان ہے بلکہ البرٹا کی آئندہ سیاست، خاص طور پر کیلگری میں ووٹرز کے بدلتے رجحانات کے حوالے سے بھی ایک اہم اشارہ قرار دی جا رہی ہے۔

ہمیں فالو کریں