اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرگئی ہے، امریکا نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی مزید 110 مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کردیا ہے۔ نئے محصولات منگل کی رات 12 بجے کے فوراً بعد نافذ ہوئے، جس کے بعد متعدد کینیڈین مصنوعات کی امریکی مارکیٹ تک رسائی مزید مہنگی ہوگئی۔
نئے ٹیرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے اعلان کردہ تبدیلیوں کا حصہ ہیں، جن میں کچھ مصنوعات کو ٹیرف فہرست میں شامل کیا گیا جبکہ بعض اشیا پر عائد محصولات ختم کردیئے گئے۔
کن اشیا پر ٹیرف؟
نئے 50 فیصد محصولات کی زد میں مختلف اقسام کے پنیر، موٹر بوٹس، آل ٹیرین وہیکلز (اے ٹی ویز)، فرنیچر اور متعدد صنعتی مصنوعات شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ایلومینیم مصنوعات، کاغذ اور لکڑی سے تیار ہونے والی اشیا، لوہے یا اسٹیل کے بیم، برقی لیمپس اور گدوں کو بھی نئی ٹیرف فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
امریکی حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف کے بعد تجارتی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔
10 اشیا پر ریلیف
دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے 10 مصنوعات کو ٹیرف فہرست سے نکالنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان اشیا میں نمک، چینی، سیمنٹ، سوئچ بورڈز اور ٹوائلٹ پیپر سمیت دیگر مصنوعات شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹیرف میں ان تبدیلیوں کا مقصد امریکی تجارت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنا اور عوامی مفاد کو بہتر طور پر مدنظر رکھنا ہے۔
ٹوائلٹ پیپر بھی اہم
ٹیرف سے مستثنیٰ کی جانے والی اشیا میں ٹوائلٹ پیپر خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ 2024 میں کینیڈا نے تقریباً 328 ملین امریکی ڈالر مالیت کا ٹوائلٹ پیپر امریکا کو برآمد کیا تھا، جس کے باعث کینیڈا امریکا کے لیے اس مصنوعات کا سب سے بڑا بین الاقوامی سپلائر بن گیا تھا۔
اسی طرح کینیڈا امریکا کو نمک فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں بھی شامل ہے۔ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں امریکا نے کینیڈا سے تقریباً 159.2 ملین امریکی ڈالر مالیت کا نمک درآمد کیا۔
ٹیرف کا مجموعی اثر
ماہرین کے مطابق اگر نئی شامل کی گئی اور ختم کی گئی مصنوعات کی مجموعی تجارتی مالیت دیکھی جائے تو دونوں تقریباً ایک دوسرے کے برابر ہیں۔
یونیورسٹی آف اوٹاوا کے بزنس اینڈ ٹریڈ لا کے ماہر وولف گانگ آلشنر کے تجزیے کے مطابق جن مصنوعات پر سے ٹیرف ہٹایا گیا، ان کی تجارتی مالیت تقریباً 2.41 ارب امریکی ڈالر بنتی ہے، جبکہ نئی ٹیرف زدہ مصنوعات کی 2025 میں تجارت تقریباً 2.56 ارب امریکی ڈالر تھی۔
یہ بھی پڑھیں :کینیڈا میں امریکی مصنوعات پر نئے جوابی ٹیرف نافذ، کاروباری طبقہ بڑھتے اخراجات سے پریشان
اس طرح مجموعی طور پر ٹیرف کے دائرے میں معمولی اضافہ ہوا ہے، تاہم یہ اضافہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی مجموعی تجارت کے مقابلے میں بہت محدود ہے۔
سوئچ بورڈز سب سے بڑی کیٹیگری
نئی تبدیلیوں میں سب سے زیادہ تجارتی مالیت رکھنے والی کیٹیگری سوئچ گیئر اسمبلیز اور سوئچ بورڈز کی ہے۔
آلشنر کے مطابق امریکا نے 2025 میں کینیڈا سے تقریباً 750 ملین امریکی ڈالر مالیت کے سوئچ گیئر اسمبلیز اور سوئچ بورڈز درآمد کیے۔ یہ مصنوعات گاڑیوں سے لے کر ہوائی جہازوں تک مختلف شعبوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات پر ٹیرف سے امریکی صنعتوں کے اخراجات بھی متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ کئی شعبوں میں کینیڈین مصنوعات فوری طور پر آسانی سے متبادل نہیں کی جاسکتیں۔
امریکا کو بھی دباؤ
تجارتی ماہر آلشنر کے مطابق بعض ٹیرف ختم کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ امریکی حکومت اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ محصولات کا اضافی خرچ بالآخر امریکی صارفین تک کس حد تک منتقل ہوتا ہے۔
انہوں نے نمک اور سیمنٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ موسم سرما میں سڑکوں پر برف پگھلانے کے لیے نمک ضروری ہے اور سیمنٹ کی طلب بھی ایسی ہے کہ اسے آسانی سے کسی دوسری مصنوعات سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اسی وجہ سے ان اشیا پر ٹیرف برقرار رکھنا امریکی معیشت کے لیے بھی اضافی مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
تجارتی جنگ میں شدت
امریکا اور کینیڈا کے درمیان تازہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک اگست میں تجارتی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے تھے۔ اس کے بعد تجارتی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
22 اگست کو امریکا نے کینیڈا کی متعدد مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی پر عملدرآمد کیا، جس کے جواب میں کینیڈا نے تقریباً 700 اقسام کی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کردیئے، جو 8 ستمبر سے نافذ ہوئے۔
مزید پابندیاں 29 ستمبر سے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈین مصنوعات کے خلاف مزید اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔ کینیڈا سے شراب، موٹر سائیکلوں اور بعض دیگر مصنوعات کی امریکا درآمد پر پابندی 29 ستمبر سے نافذ ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق تجارتی جنگ کا دائرہ بڑھنے سے مخصوص علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ملازمتوں میں کمی اور چھوٹے کاروباروں کی بندش جیسے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
کینیڈین کمپنیوں کے لیے مشکلات
تازہ ٹیرف کینیڈین کمپنیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں متبادل راستے تلاش کرنا بھی مشکل بنا رہے ہیں۔ آلشنر کے مطابق پہلے کچھ کمپنیاں اپنی پیداوار کو ان مصنوعات کی جانب منتقل کرسکتی تھیں جن پر ٹیرف عائد نہیں تھا، لیکن اب مزید مخصوص اور محدود نوعیت کے ٹیرف لگنے سے ایسے راستے بھی بند ہورہے ہیں۔
یوں امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے پر دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنی ہی معیشتوں پر پڑنے والے اثرات کو بھی محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
