اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے کے تحت امریکا نے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور وینزویلا کے درمیان دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکا کو وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر میں اکثریتی کنٹرول حاصل ہوگا، جس سے امریکی توانائی کے ذخائر میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ امریکا کے تیل کے ذخائر کو دوگنا سے بھی زیادہ کر دے گا اور مستقبل میں عالمی و امریکی مارکیٹ میں تیل کی رسد بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تیل کی اضافی رسد کے باعث مستقبل میں امریکی شہریوں کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا تیل معاہدہ قرار
امریکی صدر نے اس پیش رفت کو دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات صرف امریکا اور وینزویلا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی توانائی کی منڈی پر بھی اس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدے سے امریکا کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک نیا اور مضبوط ذریعہ دستیاب ہوگا، جبکہ وینزویلا کو بھی اپنے وسیع قدرتی وسائل سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔
امریکی صدر نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور تیل کی رسد میں اضافے سے امریکی معیشت کو فائدہ پہنچے گا اور توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا طویل مدت کے لیے توانائی کے شعبے میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور وینزویلا کے ساتھ طے پانے والا یہ معاہدہ اسی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
روبیو اور ہیگسیتھ نے مذاکرات میں کردار ادا کیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی ہدایت پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا۔
ٹرمپ کے مطابق دونوں امریکی حکام نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز کے ساتھ مل کر نجی شعبے کی شراکت سے معاہدے پر کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری سطح کے مذاکرات کے ساتھ نجی شعبے کی شمولیت بھی معاہدے کا ایک اہم حصہ ہے، جس سے تیل کے ذخائر کی تلاش، پیداوار، ترسیل اور عالمی مارکیٹ تک رسائی کے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پیدا ہوں گے۔
تاہم امریکی صدر نے اپنے بیان میں معاہدے کی مکمل قانونی اور مالی تفصیلات یا اس میں شامل کمپنیوں کے نام واضح نہیں کیے۔
امریکی تیل کی رسد میں اضافے کی توقع
ٹرمپ کے مطابق وینزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر تک رسائی سے امریکا کی مجموعی تیل کی رسد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کا مقصد توانائی کی پیداوار بڑھانا اور امریکی صارفین کو سستی توانائی فراہم کرنا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ تیل کی زیادہ پیداوار اور مارکیٹ میں رسد بڑھنے سے پیٹرول سمیت توانائی کی مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
توانائی کی قیمتیں امریکا میں ہمیشہ سے سیاسی اور معاشی اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عام شہریوں، ٹرانسپورٹ کے شعبے اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ ماضی میں بھی توانائی کی مقامی پیداوار بڑھانے اور بیرونی توانائی کے ذرائع تک رسائی کو اپنی اقتصادی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتی رہی ہے۔
وینزویلا کے لیے معاشی امکانات
امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ اس معاہدے سے وینزویلا کو بھی بڑی کامیابی اور معاشی خوشحالی کی جانب بڑھنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے قدرتی وسائل کی ترقی اور تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری سے ملک میں معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
وینزویلا طویل عرصے سے توانائی کے وسیع ذخائر رکھنے کے باوجود مختلف معاشی اور سیاسی مسائل سے دوچار رہا ہے، جس کے باعث اس کی تیل کی صنعت اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق ترقی نہیں کر سکی۔
ٹرمپ کے مطابق نئے معاہدے سے وینزویلا کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے، جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
امریکا اور وینزویلا کے تعلقات میں نیا موڑ
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور وینزویلا کے درمیان تعلقات پہلے ہی بہتری کی جانب گامزن ہیں اور یہ معاہدہ دونوں ممالک کے باہمی روابط کو مزید مضبوط بنائے گا۔
ان کے مطابق توانائی کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے لیے مشترکہ مفادات پیدا کرے گا اور مستقبل میں دیگر شعبوں میں بھی تعاون کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
امریکی صدر کے اس دعوے کو امریکا اور وینزویلا کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس کے عملی دائرہ کار اور دونوں ممالک پر ممکنہ معاشی اثرات کا واضح اندازہ لگایا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں :امریکہ کی وینز ویلا کیخلاف زمینی کارروائی کی دھمکی،کشیدگی میں اضافہ
ٹرمپ نے اپنے بیان کے اختتام پر اس معاہدے کو امریکا کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک کے توانائی کے ذخائر میں غیر معمولی اضافہ ہوگا، تیل کی رسد بڑھے گی اور امریکی شہریوں کو مستقبل میں کم قیمت پیٹرول کی صورت میں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے ساتھ توانائی کے شعبے میں یہ شراکت داری دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی اور مستقبل میں امریکا اور وینزویلا کے تعلقات کو ایک نئی سمت دے گی۔
