اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)نیپال اور تبت کی سرحدی ہمالیائی علاقے میں آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب کے بعد تقریباً 2 ہزار افراد لاپتا ہیں، جن میں 32 کینیڈین شہری اور مستقل رہائشی بھی شامل ہیں۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے جمعہ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے اب تک 579 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 1 ہزار 924 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
انیتا آنند کے مطابق لاپتا ہونے والوں میں 517 غیر ملکی شہری شامل ہیں، تاہم اب تک کسی کینیڈین شہری کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
انہوں نے نیپال میں موجود صورتحال کو ایک تباہ کن انسانی بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔
کینیڈین حکومت نے نیپال کے لیے ہنگامی امدادی سرگرمیوں کی حمایت کے لیے 50 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
لاپتا افراد کی تلاش جاری
دوسری جانب نیپال اور تبت کے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارکن جمعہ کو بھی ملبے اور کیچڑ میں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف رہے۔
بدھ کو آنے والے اچانک سیلاب نے سرحدی علاقوں میں متعدد بستیاں اور بنیادی ڈھانچہ تباہ کر دیا تھا، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
نیپالی حکام کے مطابق اب تک 3 ہزار 742 افراد کو مختلف متاثرہ علاقوں سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔تاہم سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لاپتا افراد کی تلاش کا کام انتہائی پیچیدہ ہے کیونکہ متعدد دیہات مکمل طور پر پانی اور مٹی کے ریلوں میں بہہ گئے ہیں۔
مزید سیلاب کا خطرہ
نیپال اور چین کے حکام نے مزید سیلاب کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔حکام کے مطابق بدھ کے سیلاب کے بعد بالائی علاقے میں ایک جھیل بن گئی ہے، جو پہلے ہی پانی سے بھر کر بہنے لگی ہے۔
حکام نے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں میں رہنے والے افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
سرنگ میں پھنسے افراد کو نکالنے کی کوشش
نیپالی فوج نے نیپال اور چین کی سرحد کے قریب اپر تریشولی ون ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے علاقے میں بھی امدادی ٹیمیں روانہ کی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق متعدد افراد ایک سرنگ کے اندر پھنس گئے تھے، جس کے بعد جمعہ کو انہیں نکالنے کے لیے خصوصی ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
نیپالی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجا رام بسنت نے بتایا کہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد سرنگ کے داخلی اور خارجی راستے مکمل طور پر مٹی سے بھر گئے ہیں، جس کی وجہ سے اندر موجود افراد تک پہنچنا انتہائی مشکل ہو رہا ہے۔ان کے مطابق امدادی کارروائیوں میں پہلی ترجیح سرنگ میں پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکالنا ہے۔
حکام کے مطابق امدادی کارکنوں نے سرنگ میں پھنسے تقریباً 350 افراد کو نکال لیا ہے جبکہ مزید 100 سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
پورے دیہات بہہ گئے
نیپال میں انسانی امدادی تنظیم آکسفیم کے نمائندے سنتوش پانڈے نے صورتحال کو انتہائی افراتفری اور سنگین قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق کئی علاقوں میں پورے کے پورے دیہات اور آبادیاں سیلابی ریلوں میں بہہ گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں اس قدر تباہی ہوئی ہے کہ متاثرہ آبادیوں میں ایک دوسرے کی مدد کے لیے لوگ بھی موجود نہیں رہے۔
سیلاب کے باعث بڑی تعداد میں سرکاری عمارتیں، سڑکیں، پل، اسپتال اور طبی مراکز بھی تباہ ہو چکے ہیں، جس سے امدادی سرگرمیوں اور زخمیوں کے علاج میں مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
خاندان اپنوں کی تلاش میں سرگرداں
دوسری جانب لاپتا افراد کے اہل خانہ اسپتالوں اور فرانزک مراکز کے باہر اپنے پیاروں کی تلاش میں جمع ہیں۔دارالحکومت کھٹمنڈو کے تری بھون یونیورسٹی ٹیچنگ اسپتال میں متاثرہ خاندان فرانزک شناختی یونٹ کے باہر لگائی گئی تصاویر میں اپنے لاپتا عزیزوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ان تصاویر میں سیلابی کیچڑ سے نکالی گئی لاشیں شامل ہیں، جن میں بچوں کی لاشیں بھی موجود ہیں۔
49 سالہ نرمالا ساپکوٹا کوہولی بھی اپنے چھوٹے بھائی پردیپ کمار ساپکوٹا کی تلاش میں مختلف اسپتالوں کے چکر لگا رہی ہیں۔
ان کے بھائی زائرین کے ایک گروپ کے ساتھ ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے تھے، جس میں امریکا اور بھارت سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل تھے۔
خاندان کے مطابق بدھ کی صبح پردیپ کمار ساپکوٹا اپنی بیٹی سے فون پر بات کر رہے تھے کہ اچانک ایک زور دار آواز سنائی دی اور فون کال منقطع ہوگئی۔اس کے بعد سے ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
نرمالا ساپکوٹا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن جگہ جائیں گی اور آخری سانس تک ان کی تلاش جاری رکھیں گی۔
نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم خراب موسم، تباہ شدہ سڑکوں، ملبے اور دور دراز علاقوں تک رسائی نہ ہونے کے باعث ہزاروں متاثرین کی مدد اور لاپتا افراد کی تلاش ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
