امریکی دھمکی کے بعد کیوبیک کی سیاسی جماعتوں نے معاشی حکمت عملی پیش کردی

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز) کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہونے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ ٹیرف عائد کرنے کے اعلان کے بعد کیوبیک کی سیاسی جماعتوں نے صوبے کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی اپنی حکمت عملی پیش کردی۔

امریکا نے ہفتے کی صبح تقریباً 28 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کردیا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہونے کے بعد سامنے آیا۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ہفتے کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا نے ایک ’’خراب معاہدے‘‘ سے پیچھے ہٹنے کا درست فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف 8 ستمبر سے نافذ کیا جائے گا۔

کیوبیک حکومت کا مؤقف

کیوبیک کی پریمیئر کرسٹین فریشیٹ نے مذاکرات کے خاتمے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں صوبے اور کینیڈا کو اپنی صنعتی صلاحیت مزید مضبوط کرنا ہوگی۔

صوبائی حکومت نے امریکی ٹیرف سے متاثر ہونے والی مینوفیکچرنگ اور بنیادی شعبوں کی کمپنیوں کے لیے دو مالی معاونتی پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک پروگرام ان کاروباری اداروں کے لیے ہے جن کی سالانہ آمدنی 20 لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ ہے اور امریکی ٹیرف کے باعث ان کی آمدنی میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

دوسرے پروگرام کے تحت ایک سے 20 لاکھ ڈالر سالانہ آمدنی رکھنے والے مشکلات کا شکار کاروباروں کو 150 ہزار ڈالر تک قرض فراہم کیا جائے گا، جبکہ قرض کی ادائیگی کے آغاز کے لیے 12 ماہ کی مہلت ہوگی۔

کیوبیک سولڈیر کا منصوبہ

کیوبیک سولڈیر کی سربراہ روبہ غزال نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے پیدا کی جانے والی معاشی غیر یقینی صورتحال اب معمول بنتی جارہی ہے۔

ان کی جماعت نے ’’ٹرمپ پروویژن‘‘ کے نام سے ایک فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی ہے، جس کے لیے 2028 تک ہر سال ایک ارب ڈالر تک مختص کرنے کی بات کی گئی ہے۔ مقصد ٹیرف سے متاثرہ کمپنیوں میں روزگار برقرار رکھنا اور مستقبل کے ممکنہ امریکی اقدامات کے لیے تیاری کرنا ہے۔

جماعت نے امریکا پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہائیڈرو کیوبیک کی بجلی کے نرخوں کو بھی بطور معاشی ہتھیار استعمال کرنے کی تجویز دی ہے۔

کیوبیک لبرل پارٹی

کیوبیک لبرل پارٹی کے سربراہ چارلس میلیارڈ نے کہا کہ صوبے کو کینیڈا کے دیگر صوبوں اور شراکت داروں کے ساتھ مضبوط معاشی و سیاسی تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں :سرکاری اسٹورز سے امریکی شراب نہیں ہٹائی جائے گی،کیوبیک کا امریکا کو دوٹوک جواب

ان کے مطابق توانائی بھی تجارتی مذاکرات کا اہم حصہ ہونی چاہیے اور کیوبیک کے پاس ہائیڈرو کیوبیک کی صورت میں ایک اہم معاشی قوت موجود ہے، جسے صوبے کے مفاد میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کنزرویٹو پارٹی کا مؤقف

کیوبیک کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ ایرک ڈوہیم نے امریکی ٹیرف کا مقابلہ کرنے کے لیے قدرتی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے پر زور دیا۔

انہوں نے خاص طور پر قدرتی گیس سمیت توانائی کے شعبے کو وسعت دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے دباؤ کا بہترین جواب یہ ہے کہ کیوبیک خود کفیل بنے اور توانائی کے شعبے میں ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرے۔

کیوبیک کی سیاسی جماعتوں کے مختلف منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی آئندہ صوبائی انتخابات میں بھی ایک اہم سیاسی اور معاشی موضوع بن سکتی ہے۔

ہمیں فالو کریں