اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز ) ایرانی فوج کے سربراہ میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ ایران کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
انہوں نے ایرانی مسلح افواج کو ممکنہ نئے حملوں کے پیش نظر مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کا جواب دینے کے لیے فوج کو اپنی تیاری برقرار رکھنا ہوگی۔
جنگ جاری ہے
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی آرمی چیف نے ایک فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جنگ کے دوران اپنی صلاحیتوں اور دفاعی قوت کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم حاصل ہونے والی کامیابی کو مستحکم کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کو جنگ کے اختتام کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ آنے والا مرحلہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
میجر جنرل امیر حاتمی نے ایرانی فوج کے جوانوں اور کمانڈروں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ ان کے مطابق ایران کو مستقبل میں بھی بیرونی خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے، اس لیے دفاعی تیاریوں میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتی جاسکتی۔
ایرانی دعویٰ
ایرانی آرمی چیف نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ جنگ کے دوران مخالف فریق کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ایران نے اپنے دفاع کے لیے بھرپور مزاحمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک ایسا ملک ہے جو امریکا اور اسرائیل کے مقابل کھڑا ہے۔ ان کے بقول ایرانی عوام نے مشکل حالات میں اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایران کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور خطے میں طاقت کے استعمال کے ذریعے فیصلے مسلط کرنے کی کوششوں کی مخالفت جاری رکھے گا۔
سفارتی رابطے
امیر حاتمی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی، سفارتی رابطوں اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی ہے۔ حالیہ دنوں میں ثالثی کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ مختلف فریق کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق مسقط اور دیگر ثالثوں کے ذریعے امریکا تک جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق تجاویز پہنچائی گئی ہیں۔ تہران کی جانب سے واشنگٹن کے جواب کا انتظار کیا جارہا ہے، جبکہ خطے میں موجود دیگر ممالک بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
نئے حملے کا خدشہ
دوسری جانب ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے بھی کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج امریکا کی جانب سے کسی ممکنہ نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق ایرانی فوج نے جنگ کے دوران اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے اور اگر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔
ایرانی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ کارروائی کی تو اسے پہلے سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایرانی حکام مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ملک کی مسلح افواج کسی بھی ممکنہ حملے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
ہرمز کا معاملہ
آبنائے ہرمز بھی ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں مرکزی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ دنیا کی توانائی اور عالمی تجارت کے لیے یہ اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے اس سے متعلق کسی بھی کشیدگی کے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
میجر جنرل امیر حاتمی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ ایران ایسی صورتحال قبول نہیں کرے گا جس میں ایران خود تجارت نہ کرسکے جبکہ دوسری طاقتیں خطے کے اہم بحری راستوں کو استعمال کرتی رہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنے قومی مفادات اور تجارتی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا مؤقف برقرار رکھے گا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے کو خطے کی مجموعی صورتحال سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق اگر ایران پر دباؤ بڑھایا گیا تو اس کے اثرات علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی تجارت تک پہنچ سکتے ہیں۔
کشیدگی برقرار
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں خطے کے ممالک کے لیے بھی صورتحال تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ایک طرف سفارتی رابطوں اور ثالثی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف دونوں جانب سے فوجی تیاریوں اور ممکنہ جوابی کارروائیوں کے بیانات سامنے آرہے ہیں۔
ایرانی آرمی چیف کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران موجودہ صورتحال کو حتمی اختتام کے بجائے ایک نئے مرحلے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ ایرانی قیادت کی جانب سے فوج کو چوکس رہنے کی ہدایات اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف کے باعث خطے میں کشیدگی اور سفارتی سرگرمیاں بیک وقت جاری رہنے کا امکان ہے۔
